(۳۴۰۷۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِنْدَ ، عَنْ أَبِی مُرَّۃَ مَوْلَی عَقِیلِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ، عَنْ أُمِّ ہَانِئِ ابْنَۃِ أَبِی طَالِبٍ ، قَالَتْ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ ، فَرَّ إِلَیَّ رَجُلاَنِ مِنْ أَحْمَائِی فَأَجَرْتُہُمَا ، أَوْ کَلِمَۃً تُشْبِہُہَا ، فَدَخَلَ عَلَیَّ أَخِی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ، فَقَالَ : لأَقْتُلَنَّہُمَا ، قَالَتْ : فَأَغْلَقْتُ الْبَابَ عَلَیْہِمَا ، ثُمَّ جِئْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَی مَکَّۃَ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا ، وَأَہْلاً بِأُمِّ ہَانِئٍ ، مَا جَائَ بِکِ ؟ قَالَتْ : قُلْتُ : یَا نَبِیَّ اللہِ ، فَرَّ إِلَیَّ رَجُلاَنِ مِنْ أَحْمَائِی ، فَدَخَلَ عَلَیَّ أَخِی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَزَعَمَ أَنَّہُ قَاتِلُہُمَا ، فَقَالَ : لاَ ، قَدْ أَجْرَنَا مَنْ أَجَرْتِ ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ۔
(٣٤٠٧١) حضرت ابو مرہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب مکہ فتح فرمایا : تو حضرت ام ہانی (رض) فرماتی ہیں کہ میرے خاوند کے دو رشتہ دار بھاگ کر میرے پاس آئے تو میں نے ان کو پنادہ دے دی، میرے بھائی حضرت علی (رض) میرے پاس آئے اور فرمایا : میں ان کو ضرور قتل کروں گا، حضرت ام ھانی (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے ان دونوں کو کمرے میں بند کردیا اور میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیکھ کر فرمایا : خوش آمدید ام ھانی (رض) ! خیریت سے تشریف لائی ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ : اے اللہ کے نبی 5! میرے خاوند کے خاندان کے دو شخص بھاگ کر میرے پاس آئے تو میں نے ان کو پناہ دے دی، میرے بھائی حضرت علی (رض) میرے پاس آئے اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرمایا : نہیں (ان کو قتل نہیں کیا جائے گا) جس کو تو نے پناہ دی اس کو ہم نے بھی پناہ دی اور جس کو تو نے امن دیا اس کو ہم نے بھی امن دیا۔