hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 34074

.

ابن أبي شيبة

34074
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۰۷۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنُ سُلَیْمَان ، عَنْ فُضَیْلِ بْنِ زَیْدٍ الرَّقَاشِیِّ ، وَقَدْ کَانَ غَزَا عَلَی عَہْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ سَبْعَ غَزَوَاتٍ ، قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ جَیْشًا فَکُنْتُ فِی ذَلِکَ الْجَیْشِ ، فَحَاصَرْنَا أَہْلَ سِہْرِیَاجٍ ، فَلَمَّا رَأَیْنَا أَنَّا سَنَفْتَحُہَا مِنْ یَوْمِنَا ذَلِکَ ، قُلْنَا : نَرْجِعُ فَنُقِیلُ ، ثُمَّ نَرُوحُ فَنَفْتَحُہَا ، فَلَمَّا رَجَعْنَا تَخَلَّفَ عَبْدٌ مِنْ عَبِیدِ الْمُسْلِمِینَ ، فَرَاطَنَہُمْ فَرَاطَنُوہُ ، فَکَتَبَ لَہُمْ أَمَانًا فِی صَحِیفَۃٍ ، ثُمَّ شَدَّہُ فِی سَہْمٍ فَرَمَی بِہِ إِلَیْہِمْ فَخَرَجُوا۔ فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنَ الْعَشِیِّ وَجَدْنَاہُمْ قَدْ خَرَجُوا ، قُلْنَا لَہُمْ : مَا لَکُمْ ؟ قَالُوا : أَمَّنْتُمُونَا ، قُلْنَا : مَا فَعَلْنَا ، إِنَّمَا الَّذِی أَمَّنَکُمْ عَبْدٌ لاَ یَقْدِرُ عَلَی شَیْئٍ ، فَارْجِعُوا حَتَّی نَکْتُبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالُوا : مَا نَعْرِفُ عَبْدَکُمْ مِنْ حُرِّکُمْ ، مَا نَحْنُ بِرَاجِعِینَ ، إِنْ شِئْتُمْ فَاقْتُلُونَا ، وَإِنْ شِئْتُمْ ففُوا لَنَا ، قَالَ : فَکَتَبْنَا إِلَی عُمَرَ ، فَکَتَبَ عُمَرُ : إِنَّ عَبْدَ الْمُسْلِمِینَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، ذِمَّتُہُ ذِمَّتُہُمْ ، قَالَ : فَأَجَازَ عُمَرُ أَمَانَہُ۔
(٣٤٠٧٥) حضرت فضیل بن زید الرقاشی (رض) جو حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں سات غزوات میں شریک ہوئے، فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ایک لشکر بھیجا تو میں بھی اس لشکر میں شریک تھا ہم نے اھل سھر یاج کا محاصرہ کرلیا، جب ہم نے دیکھا کہ آج ان کو فتح کرلیں گے، ہم نے کہا : واپس لوٹتے ہیں اور کچھ آرام کر کے تازہ دم ہو کر آ کر اس کو فتح کرلیں گے، جب ہم لوگ وہاں سے واپس لوٹے تو مسلمانوں میں ایک غلام ان کے پیچھے آیا اور اس نے ان کے ساتھ عجمی میں گفتگو کی، اور ان کو ایک صحیفہ میں امان (پناہ) لکھ کر اس کو تیر کے ساتھ باندھ کر ان کی طرف پھینک دیا۔ ہم لوگ جب واپس آئے تو ہم نے دیکھا کہ وہ لوگ قلعہ سے باہر نکلے ہوئے ہیں، ہم نے ان سے پوچھا آپ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ انھوں نے کہا : آپ لوگوں نے ہمیں امن دے دیا ہے، ہم نے کہا کہ ہم نے تو ہرگز ایسا نہیں کیا ہے، بیشک تم لوگوں کو ایک غلام نے امن دیا ہے جو خود کسی چیز پر قادر نہیں ہے، تم لوگ واپس ہوجاؤ یہاں تک کہ ہم حضرت عمر (رض) کو لکھ کر ان کی رائے دریافت کرلیں، انھوں نے کیا کہ ہم تمہارے آزاد میں تمہارے غلاموں کو نہیں جانتے ہم واپس جانے والے نہیں ہیں، اب اگر تم چاہو تو ہمیں قتل کرو اور اگر چاہو تو در گزر کردو، فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر (رض) کو صورت حال لکھی، حضرت عمر (رض) نے تحریر فرمایا : مسلمانوں کا غلام بھی مسلمانوں ہی میں سے ہے، اس کا ذمہ ان کا ذمہ ہے، فرماتے ہیں حضرت عمر (رض) نے اس کے امان کو نافذ فرما دیا۔