(۳۴۱۴۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ طَلْحَۃَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ السُّلَمِیِّ ، قَالَ : جِئْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ ، یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنِّی أُرِیدُ الْجِہَادَ مَعَک فِی سَبِیلِ اللہِ ، أَبْتَغِی بِذَلِکَ وَجْہَ اللہِ ، قَالَ : حَیَّۃٌ أُمُّک ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : الْزَمْہَا ، قُلْتُ : مَا أَرَی فَہِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِّی ، فَأَعَدْتُ عَلَیْہِ مِرَارًا ، فَقَالَ : اِلْزَمْ رِجْلَیْہَا فَثَمَّ الْجَنَّۃُ۔
(٣٤١٤٥) حضرت طلحہ بن معاویہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول 5! میں آپ کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد پر جانا چاہتا ہوں اور اس کے ذریعہ اللہ کی خوشنودی کا طالب ہوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تمہاری والدہ زندہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں : فرمایا ان کی خدمت کو لازم پکڑو میں نے عرض کیا میرا نہیں خیال نہ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری بات سمجھے ہوں، میں نے بار بار اپنی بات دھرائی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اپنی والدہ کے پاؤں پکڑ لو (خدمت کرو) جنت وہاں ہی ہے۔