(۳۴۱۵۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ ، جَائِزَتُہُ یَوْمًا وَلَیْلَۃً ، وَلاَ یَحِلُّ لِضَیْفٍ أَنْ یَثْوِیَ عِنْدَ صَاحِبِہِ حَتَّی یُحْرِجَہُ ، الضِّیَافَۃُ ثَلاَثٌ ، وَمَا أَنْفَقَ عَلَیْہِ بَعْدَ ثَلاَثٍ فَہُوَ صَدَقَۃٌ۔
(بخاری ۶۰۱۹۔ مسلم ۱۳۵۲)
(٣٤١٥٨) حضرت ابو شریح الخزاعی (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اس کو چاہیے ایک دن اور ایک رات اپنے مہمان کا اکرام کرے، اور مہمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ میزبان کے پاس اتنا قیام کرے کہ اس کو حرج میں ڈال دے، مہمان نوازی تین دن ہے تین دن کے بعد جو خرچ کیا جائے گا وہ صدقہ ہے۔