(۳۴۱۶۷) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ وَقَائَ الأَسَدِیِّ ، عَنْ أَبِی ظَبْیَانِ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ فِی غَزَاۃٍ ، إمَّا فِی جَلُولاَئَ ، وَإِمَّا فِی نُہَاوَنْدَ ، قَالَ : فَمَرَّ رَجُلٌ وَقَدْ جَنَی فَاکِہَۃً ، قَالَ : فَجَعَلَ یَقْسِمُہَا بَیْنَ أَصْحَابِہِ ، فَمَرَّ سَلْمَانُ فَسَبَّہُ ، فَرَدَّ عَلَی سَلْمَانَ وَہُوَ لاَ یَعْرِفُہُ ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُ : ہَذَا سَلْمَانُ ، فَرَجَعَ إِلَی سَلْمَانَ یَعْتَذِرُ إِلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ : مَا یَحِلَّ لأَہْلِ الذِّمَّۃِ ، یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ؟ فَقَالَ : ثَلاَثٌ : مِنْ عَمَاک إِلَی ہُدَاک ، وَمِنْ فَقْرِکَ إِلَی غِنَاک ، وَإِذَا صَحِبْتِ الصَّاحِبَ مِنْہُمْ تَأْکُلُ مِنْ طَعَامِہِ ، وَیَأْکُلُ مِنْ طَعَامِکَ ، وَتَرْکَبُ دَابَّتَہُ ، وَلاَ تَصْرِفُہُ عَنْ وَجْہٍ یُرِیدُہُ۔
(٣٤١٦٧) حضرت ابو ظبیان (رض) فرماتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں حضرت سلمان فارسی (رض) کے ساتھ تھے یا تو جنگ جلولاء تھی یا پھر جنگ نھاوند۔
فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سے ایک شخص گزرا جس نے پھل توڑے ہوئے تھے، اس نے ساتھیوں کے درمیان ان کو تقسیم کرنا شروع کردیا، حضرت سلمان وہاں سے گزرے تو آپ نے اس کو برا بھلا کہا، اس نے بھی حضرت سلمان کو برا کہا نہ پہچاننے کی وجہ سے، اس کو بتایا گیا کہ یہ حضرت سلمان ہیں تو وہ حضرت سلمان کے پاس معذرت کے لیے گیا، پھر ان سے ایک شخص نے پوچھا کہ ! اے ابو عبداللہ ! ذمیوں کیلئے کیا چیز حلال ہے ؟ حضرت سلمان نے فرمایا تین چیزیں۔
تمہاری گمراہی سے ہدایت یافتہ ہونے تک تمہارے فقر سے مالداری تک، جب ان میں سے کوئی تمہارے ساتھ ہو تو تم اس کے کھانے میں سے استعمال کرلو اور وہ تمہارے کھانے میں سے، اور تم اس کی سواری پر سوار ہوجاؤ، (اور وہ تمہاری سواری پر) اور وہ چاہتا ہو تو اس سے چہرہ کو مت پھیرو۔