(۳۴۲۱۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ أَبِی عَمْرَۃَ ؛ أَنَّہُ سَمِعَ زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ یُحَدِّثُ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِینَ تُوُفِّیَ بِخَیْبَرَ ، وَأَنَّہُ ذُکِرَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمْرُہُ ، فَقَالَ : صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ ، فَتَغَیَّرَتْ وُجُوہُ الْقَوْمِ لِذَلِکَ ، فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ ، قَالَ : إِنَّہُ غَلَّ فِی سَبِیلِ اللہِ ، فَفَتَّشْنَا مَتَاعَہُ ، فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْیَہُودِ مَا یُسَاوِی دِرْہَمَیْنِ۔
(ابو داؤد ۲۷۰۳۔ ملاک ۴۵۸)
(٣٤٢١٣) حضرت زید بن خالد الجہنی (رض) سے مروی ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص خیبر میں فوت ہوا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی وفات کی اطلاع دی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اپنے ساتھی کا نماز جنازہ خود پڑھ لو، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ بات سن کر لوگوں کے چہروں کا رنگ بدل گیا۔ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کے چہروں کو دیکھا تو فرمایا : اس نے اللہ کے راستہ میں خیانت کی تھی، جب ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو یہودیوں کے موتیوں میں سے ایک موتی پایا جس کی دو درھم قیمت تھی۔