(۳۴۲۲۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ عَمِیرَۃَ الْکِنْدِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، مَنْ عَمِلَ لَنَا مِنْکُمْ عَلَی عَمَلٍ ، فَکَتَمَنَا مِخْیَطًا فَمَا فَوْقَہُ فَہُوَ غُلٌّ یَأْتِی بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، قَالَ : فَقَامَ إِلَیْہِ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَسْوَدُ کَأَنِّی أَرَاہُ ، فَقَالَ : اِقْبَلْ عَنِّی عَمَلَک یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : مَا ذَاکَ ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُک تَقُولُ الَّذِی قُلْتَ : قَالَ : وَأَنَا أَقُولُہُ الآنَ : مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ عَلَی عَمَلٍ فَلْیَجِئْنَا بِقَلِیلِہِ وَکَثِیرِہِ ، فَمَا أُوتِیَ مِنْہُ أَخَذَ ، وَمَا نُہِیَ عَنْہُ انْتَہَی۔
(٣٤٢٢٠) حضرت عدی بن عمیرہ الکندی (رض) سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! جو تم میں سے ہمارے لیے کسی معاملہ میں حاکم یا عامل بنے، پھر وہ ہم سے کوئی سوئی یا اس سے بڑی چیز چھپالے تو یہ خیانت ہے وہ قیامت کے دن اس کو لے کر حاضر ہوگا ایک سیاہ انصاری شخص کھڑا ہوا گویا کہ میں اس کو دیکھ رہا ہوں اور کہا اے اللہ کے رسول ! مجھے اپنا عامل بنانا واپس لے لیجئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا کس وجہ سے ؟ اس نے عرض کیا میں نے آپ سے وہ سنا ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابھی فرمایا ہے اس وجہ سے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں تو اب بھی کہتا ہوں کہ جو تم میں سے کسی معاملہ پر عامل بنایا گیا تو اس کو چاہیے کہ جو تھوڑا یا زیادہ ہے وہ ہمارے پاس لے آئے، جو اس کو دیا جائے وہ وصول کرے جس سے روکا جائے اس سے منع ہوجائے۔