(۳۴۲۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، قَالَ سَمِعْتُہُ یَقُولُ : کَتَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ ؛ أَسْلِم أَنْتَ ، فَلَمْ یَفْرُغِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ کِتَابِہِ ، حَتَّی أَتَاہُ کِتَابٌ مِنْ ذَلِکَ الرَّجُلِ یَقْرَأُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السَّلاَمُ فِیہِ ، فَرَدَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السَّلاَمَ فِی أَسْفَلِ کِتَابِہِ۔
(٣٤٢٣١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اھل کتاب میں سے ایک شخص کو خط لکھا تو أَسْلِم أَنْتَ لکھا ابھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خط لکھ کر فارغ نہ ہوئے تھے کہ اسی شخص کا خط آگیا وہ پڑھ کر سنایا گیا تو اس میں سلام لکھا ہوا تھا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس کے خط کے آخر میں سلام کا جواب دے دیا۔