(۳۴۲۷۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی رَجُلٌ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَعَالی حَتَّی أُسَابِقَکِ ، قَالَتْ : فَسَابَقْتُہُ فَسَبَقْتُہُ ، وَخَرَجْتُ مَعَہُ بَعْدَ ذَلِکَ فِی سَفَرٍ آخَرَ ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً ، فَقَالَ : تَعَالی حَتَّی أُسَابِقَکِ، قَالَتْ: فَسَبَقَنِی ، فَضَرَبَ بَیْنَ کَتِفَیِّ ، وَقَالَ : ہَذِہِ بِتِلْکَ۔ (نسائی ۸۹۴۳۔ طبرانی ۱۲۴)
(٣٤٢٧٤) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا آؤ دوڑ لگاتے ہیں، ہم نے مسابقہ کیا اور میں سبقت لے گئی، پھر آپ کے ساتھ ایک اور سفر میں تھے اور ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : آؤ دوڑ لگاتے ہیں، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے سبقت لے گئے اور پھر میرے کندھے کے درمیان ہاتھ مار کر فرمایا یہ اس مقابلہ کا بدلہ ہے۔