(۳۴۳۰۳) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ، عَنْ قُرَّۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ الْمِصْرِیِّ، قَالَ : بَعَثَ أَبُو بَکْرٍ ، أَوْ عُمَرُ ، شَکَّ الأَوْزَاعِیُّ ، عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ الْجُہَنِیَّ ، وَمَسْلَمَۃَ بْنَ مَخْلَدٍ الأَنْصَارِیَّ إِلَی مِصْرَ ، قَالَ : فَفُتِحَ لَہُمْ ، قَالَ : فَبَعَثُوا بِرَأْسِ یَنَّاقَ الْبِطْرِیقِ ، فَلَمَّا رَآہُ أَنْکَرَ ذَلِکَ ، فَقَالَ : إِنَّہُمْ یَصْنَعُونَ بِنَا مِثْلَ ہَذَا ، فَقَالَ : اسْتِنَانٌ بِفَارِسَ وَالرُّومِ ؟ لاَ یُحْمَلُ إِلَیْنَا رَأْسٌ ، إنَّمَا یَکْفِینَا مِنْ ذَلِکَ الْکِتَابُ وَالْخَبَرُ۔
(٣٤٣٠٣) حضرت ابوبکر صدیق (رض) یا حضرت عمر (رض) نے عقبہ بن عامر اور مسلمہ بن مخلد (رض) کو مصر کی طرف جہاد کیلئے بھیجا، انھوں نے مصر فتح کرلیا اور یناق البطریق کا سر ان کو بھیج دیا، جب انھوں نے سر کو دیکھا تو ناپسند کیا، ان حضرات نے فرمایا یہ لوگ بھی ہمارے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں، حضرت ابوبکر یا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کٹے ہوئے سر ہماری طرف نہ بھیجے جائیں۔ ہمارے لیے یہی کافی ہے کہ جیتنے کی خبر یا خط بھیج دیا کریں۔