(۳۴۳۳۵) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ حُمَیْدٍ الأَعْرَجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَوَاحَۃَ ، قَالَ : کُنْتُ فِی غَزَاۃٍ ، فَاسْتَأْذَنْتُ فَتَعَجَّلْت ، فَانْتَہَیْتُ إلَی الْبَابِ، فَإِذَا الْمِصْبَاحُ یَتَأَجَّجُ ، وَإِذَا أَنَا بِشَیْئٍ أَبْیَضَ نَائِمٍ ، فَاخْتَرَطْتُ سَیْفِی ، ثُمَّ حَرَّکْتہَا ، فَقَالَتْ : إِلَیْک إِلَیْک ، فُلاَنَۃُ کَانَتْ عِنْدِی مَشَّطَتْنِی، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُہُ، فَنَہَی أَنْ یَطْرُقَ الرَّجُلُ أَہْلَہُ لَیْلاً۔
(احمد ۴۵۱۔ حاکم ۲۹۳)
(٣٤٣٣٥) حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں ایک غزوہ میں شریک تھا میں نے واپسی کی اجازت طلب کی اور جلدی کی اور جلدی واپس آ کر گھر کے دروازے پر پہنچ گیا، گھر میں چراغ جل رہا تھا اور میں نے ایک سفید چیز سوئی ہوئی دیکھی میں نے تلوار نکال لی پھر اس کو حرکت دی تو میری اہلیہ نے کہا : تو دور ہوجا تو دور ہوجا فلاں میرے پاس ہے اور میرے بالوں میں کنگھی کر رہی ہے، حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس واقعہ کی اطلاع دی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرما دیا کہ آدمی رات کو سفر سے واپس گھر آئے۔