(۳۴۳۳۹) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ سَلَمَۃَ الأَشْجَعِیِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی حَشْرَجُ بْنُ زِیَادٍ الأَشْجَعِیُّ ، عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ أَبِیہِ ؛ أَنَّہَا غَزَتْ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْبَرَ سَادِسَۃَ سِتِّ نِسْوَۃٍ ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ إِلَیْنَا ، فَقَالَ : بِأَمْرِ مَنْ خَرَجْتُنَ ؟ وَرَأَیْنَا فِیہِ الْغَضَبَ ، فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، خَرَجْنَا وَمَعَنَا دَوَائٌ نُدَاوِی بِہِ ، وَنُنَاوِلُ السِّہَامَ ، وَنَسْقِی السَّوِیقَ ، وَنَغْزِلُ الشَّعْرَ ، نُعِینُ بِہِ فِی سَبِیلِ اللہِ ، فَقَالَ لَنَا : أَقِمْنَ ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِ خَیْبَرَ ، قَسَمَ لَنَا کَمَا قَسَمَ لِلرِّجَالِ۔
(ابوداؤد ۲۷۲۳۔ احمد ۲۷۱)
(٣٤٣٣٩) حضرت حشرج بن زیاد (رض) اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ چھ خواتین حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک ہوئیں، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ملی تو آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : کس کام کی وجہ سے تم جنگ میں نکلی ہو ؟ ہم نے آپ کے چہرہ پر غصہ کے آثار دیکھے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہم جنگ میں شریک ہوئیں ہیں ہمارے پاس دوائی ہے جس سے زخمیوں کو دواء دیں گے اور تیر پکڑائیں گے اور ستو ملا پانی پلائیں گے اور بالو کی رسی بنائیں گے جس سے اللہ کے راستہ میں مدد حاصل کی جائے گی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے فرمایا : ٹھہری رہو پھر جب خیبر فتح ہوا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں بھی اسی طرح حصہ دیا جس طرح مردوں کو دیا۔