(۳۴۳۴۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ جُمَیْعٍ ، قَالَ حَدَّثَتْنِی جَدَّتِی ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلاَدٍ الأَنْصَارِیُّ ، عَنْ أُمِّ وَرَقَۃَ بِنْتِ نَوْفَلٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا غَزَا بَدْرًا ، قَالَتْ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ائْذَنْ لِی فِی أَنْ أَغْزُوَ مَعَک ، أُدَاوِی جَرْحَاکُمْ ، وَأُمَرِّضُ مَرْضَاکُمْ ، لَعَلَّ اللَّہَ یَرْزُقُنِی شَہَادَۃً، قَالَ: قَرِّی فِی بَیْتِکَ ، فَإِنَّ اللَّہَ یَرْزُقُک الشَّہَادَۃَ ، قَالَ: فَکَانَتْ تُسَمَّی الشَّہِیدَۃَ۔ (ابوداؤد ۵۹۲۔ دارقطنی ۱۱۱)
(٣٤٣٤٥) حضرت ام ورقۃ بنت نوفل (رض) فرماتی ہیں کہ جب حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ بدر کیلئے روانہ ہونے لگے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجھے بھی اپنے ساتھ جہاد پر جانے کی اجازت عنایت فرما دیں، میں آپ کے زخمیوں کی مرہم پٹی اور مریضوں کی تیمار داری کروں گی شاید کہ اللہ مجھے بھی شہادت کی موت نصیب فرما دے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : اپنے گھر میں رہ بیشک اللہ تعالیٰ نے تجھے شہادت (کا ثواب) دے دیا ہے، فرماتی ہیں کہ اس کے بعد میرا نام شہیدہ پڑگیا۔