(۳۴۳۴۷) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی رَجَائُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی مُغِیرَۃُ بْنُ حَبِیبٍ ، خَتَنُ مَالِکِ بْنِ دِینَارٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : نَدْخُلُ أَرْضَ الشِّرْکِ ، فَنُحَاصِرُ الْحِصْنَ ، فَیُقَاتِلُونَنَا قِتَالاً شَدِیدًا ، فَیَسْأَلُونَنَا الأَمَانَ ، وَیَأْبَی ذَلِکَ الأَمِیرُ ، فَمَا تَرَی فِی قِتَالِہِمْ ؟ فَقَالَ : لَیْسَ إِلَیْکُمْ ، ذَاکَ إِلَی الأَمِیرِ۔
(٣٤٣٤٧) حضرت ابن عبداللہ (رض) سے دریافت کیا گیا کہ ہم لوگ کافروں کے ملک میں جا کر ان کے قلعہ کا محاصرہ کریں پھر وہ لوگ ہمارے ساتھ سخت مزاحمت کریں اور بعد میں ہم سے امن طلب کریں اور ان کا امیر انکار کر دے تو ان کے ساتھ لڑنے کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟ فرمایا یہ تم پر نہیں ہے یہ ان کے امیر کا معاملہ ہے۔