hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 34396

.

ابن أبي شيبة

34396
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۳۹۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَلْقَمَۃَ بْنَ مُجززٍ عَلَی بَعْثٍ أَنَا فِیہِمْ ، فَلَمَّا انْتَہَی إِلَی رَأْسِ غَزَاتِہِ ، أَوْ کَانَ بِبَعْضِ الطَّرِیقِ اسْتَأْذَنَتْہُ طَائِفَۃٌ مِنَ الْجَیْشِ ، فَأَذِنَ لَہُمْ وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَبْدَ اللہِ بْنَ حُذَافَۃَ بْنِ قَیْسٍ السَّہْمِی ، فَکُنْت فِیمَنْ غَزَا مَعَہُ۔ فَلَمَّا کَانَ بِبَعْضِ الطَّرِیقِ أَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا لِیَصْطَلُوا ، أَوْ لِیَصْنَعُوا عَلَیْہَا صَنِیعًا ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ ، وَکَانَتْ فِیہِ دُعَابَۃٌ : أَلَیْسَ لِی عَلَیْکُمَ السَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ ؟ قَالُوا : بَلَی ، قَالَ : فَمَا أَنَا بِآمُرُکُمْ بِشَیْئٍ إِلاَّ صَنَعْتُمُوہُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنِّی أَعْزِمُ عَلَیْکُمْ إِلاَّ تَوَاثَبْتُمْ فِی ہَذِہِ النَّارِ ، فَقَامَ نَاسٌ فَتَحَجَّزُوا ، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّہُمْ وَاثِبُونَ ، قَالَ : أَمْسِکُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ ، فَإِنَّمَا أَمْزَحُ مَعَکُمْ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَکَرُوا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ أَمَرَکُمْ مِنْہُمْ بِمَعْصِیَۃٍ فَلاَ تُطِیعُوہُ۔ (ابن ماجہ ۲۸۶۳۔ حاکم ۶۳۰)
(٣٤٣٩٧) حضرت ابو سعید الخدری (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علقمہ (رض) کو ایک سریہ کا امیر بنا کر بھیجا اس لشکر میں میں بھی شریک تھا جب راستہ میں پہنچے تو لشکر میں سے ایک جماعت نے ان سے اجازت لی، انھوں نے اجازت دے دی اور ان پر حضرت عبداللہ بن حذافہ السھمی (رض) کو امیر مقرر فرما دیا میں بھی اسی میں ان کے ساتھ لڑنے والوں میں شامل تھا۔ جب راستہ میں تھے تو لوگوں نے کھچ بنانے کیلئے آگ جلائی حضرت عبداللہ (رض) میں مزاح کرنے کی عادت تھی آپ نے فرمایا : کیا تم پر لازم نہیں ہے کہ تم میری اطاعت کرو ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں ! آپ (رض) نے فرمایا کہ میں تمہیں کسی کام کا حکم کروں گا تو تم اس کو بجا لاؤ گے ؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں، انھوں نے فرمایا کہ میں نے تمہارے متعلق ارادہ کیا ہے کہ تم اس آگ میں کود جاؤ سارے لوگ کھڑے ہوگئے اور کود نے کیلئے تیار ہوگئے، جب ان کو یقین ہوگیا کہ وہ اس میں کود پڑیں گے تو فرمایا : اپنے آپ کو روک لو، میں تمہارے ساتھ مزاح کررہا تھا، پھر جب ہم لوگ واپس آئے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو تمہیں گناہ کے کام کا حکم کریں اس کی اطاعت مت کرو۔