(۳۴۴۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ سُوَیْد بْنِ غَفَلَۃَ ، قَالَ : قَالَ لِی عُمَرُ : یَا أَبَا أُمَیَّۃَ ، إِنِّی لاَ أَدْرِی لَعَلِّی لاَ أَلْقَاک بَعْدَ عَامِی ہَذَا ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ وَإِنْ أُمِّرَ عَلَیْک عَبْدٌ حَبَشِیٌّ مُجْدَعٌ ، إِنْ ضَرَبَک فَاصْبِرْ ، وَإِنْ حَرَمَک فَاصْبِرْ ، وَإِنْ أَرَادَ أَمْرًا یَنْتَقِصُ دِینَک فَقُلْ : سَمْعٌ وَطَاعَۃٌ ، دَمِی دُونَ دِینِی ، فَلاَ تُفَارِقِ الْجَمَاعَۃَ۔
(٣٤٤٠٠) حضرت سوید بن غفلہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے مجھ سے فرمایا : اے ابو امیہ (رض) مجھے نہیں معلوم کہ اس سال کے بعد تمہارے ساتھ ملاقات بھی ہو کہ نہ ہو، اپنے امیر کی اطاعت کرو اگرچہ ایک کان کٹا حبشی غلام تمہارا امیر ہو، اگر وہ تمہیں مارے تو صبر کرو، اور تمہیں کسی چیز سے محروم کرے تو صبر کرو، اور اگر وہ کسی ایسے کام کا ارادہ کرے جس سے تمہارے دین میں نقص آرہا ہو تو اس کو کہہ دو ، سننا اور اطاعت کرنا ہے، میرا خون قربان ہے میرے دین پر اور جماعت سے علیحدہ مت ہونا۔