(۳۴۴۵۶) حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِہِ ، قَالَ : اشْتَرَی طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ أَرْضًا مِنَ نَشَاسْتَجُ ، نَشَاسْتَجُ بَنِی طَلْحَۃَ ، ہَذَا الَّذِی عِنْدَ السَّیْلَحِینِ ، فَأَتَی عُمَرُ ، فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ : إِنِّی اشْتَرَیْت أَرْضًا مُعْجَبَۃً ، فَقَالَ عُمَرُ : مِمَّنِ اشْتَرَیْتَہَا ؟ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ ؟ اشْتَرَیْتَہَا مِنْ أَہْلِ الْقَادِسِیَّۃِ ؟ قَالَ طَلْحَۃُ : وَکَیْفَ اشْتَرَیْتُہَا مِنْ أَہْلِ الْقَادِسِیَّۃِ کُلِّہِمْ ، قَالَ : إِنَّک لَمْ تَصْنَعْ شَیْئًا ، إِنَّمَا ہِیَ فَیْئٌ۔
(٣٤٤٥٦) حضرت مطرف نقل کرتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے کوفہ میں سیلحین سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا۔ پھر وہ حضرت عمر کے پاس آئے اور ان سے اس کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ میں نے ایک عمدہ اور خوبصورت زمین خریدی ہے۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ تم نے کس سے خریدی ہے ؟ کوفہ والوں سے ؟ کیا تم نے قادسیہ والوں سے خریدی ہے ؟ حضرت طلحہ نے کہا کہ میں نے تمام قادسیہ والوں سے خریدی ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم نے کچھ نہیں کیا یہ تو مال غنیمت ہے۔