(۳۴۴۶۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ؛ أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ السَّائِبَ بْنَ الأَقْرَعِ عَلَی الْمَدَائِنِ ، فَبَیْنَمَا ہُوَ فِی مَجْلِسِہِ ، إِذْ أُتِیَ بِتِمْثالٍ مِنْ صُفْرٍ کَأَنَّہُ رَجُلٌ قَائِلَ بِیَدَیْہِ ہَکَذَا ، وَبَسَطَ یَدَیْہِ وَقَبَضَ بَعْضَ أَصَابِعِہِ ، فَقَالَ : ہَذَا لِی ، ہَذَا مِمَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَیَّ ، فَکَتَبَ فِیہِ إِلَی عُمَرَ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَنْتَ عَامِلٌ مِنْ عُمَّالِ الْمُسْلِمِینَ ، فَاجْعَلْہُ فِی بَیْتِ مَالِ الْمُسْلِمِینَ۔
(٣٤٤٦٠) حضرت محمد بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے سائب بن اقرع کو مدائن کا حاکم بنایا۔ ایک دن وہ اپنی مجلس میں بیٹھے تھے کہ ان کے پاس تانبے کا ایک تھال لایا گیا جو آدمی کے ہاتھ کی شکل کا بنا ہوا تھا۔ سائب بن اقرع نے اس تھال میں ہاتھ ڈالا اور ایک مٹھی بھر کر کہا کہ یہ میرا ہے یہ اللہ نے مجھے عطا کیا ہے۔ پھر انھوں نے اس بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ تم تو محض مسلمانوں کے ایک گورنر ہو، یہ سب کچھ مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کرادو۔