(۳۴۴۶۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، قَالَ : سَأَلَ صُبَیْحٌ أَبَا عُثْمَانَ النَّہْدِیَّ وَأَنَا أَسْمَعُ، فَقَالَ لَہُ : ہَلْ أَدْرَکْتَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَسْلَمْتُ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَدَّیْتُ إِلَیْہِ ثَلاَثَ صَدَقَاتٍ ، وَلَمْ أَلْقَہُ ، وَغَزَوْتُ عَلَی عَہْدِ عُمَرَ غَزَوَاتٍ ، شَہِدْتُ فَتْحَ الْقَادِسِیَّۃِ، وَجَلُولاَئَ ، وَتُسْتَرَ ، وَنَہَاوَنْد ، وَالْیَرْمُوکَ ، وَآذَرْبَیْجَانَ ، وَمِہْرَانَ ، وَرُسْتُمَ ، فَکُنَّا نَأْکُلُ السَّمْنَ وَنَتْرُکُ الْوَدَکَ ، فَسَأَلْتُہُ عَنِ الظُّرُوفِ ؟ فَقَالاَ : لَمْ نَکُنْ نَسْأَلُ عَنْہَا ، یَعْنِی طَعَامَ الْمُشْرِکِینَ۔
(ابن سعد ۹۷۔ مسند ۶۲۸)
(٣٤٤٦٨) حضرت عاصم احول فرماتے ہیں کہ صبیح نے ابو عثمان نہدی سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ دیکھا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ ہاں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں اسلام لایا تھا اور تین مرتبہ آپ کی طرف زکوۃ بھی بھجوائی تھی، لیکن میری حضور سے ملاقات نہیں ہوئی۔ میں نے حضرت عمر (رض) کے زمانے میں مختلف لڑائیوں میں حصہ لیا، میں قادسیہ، جلولائ، تستر، نہاوند، یرموک، آذربائیجان، مہران اور رستم کی لڑائی میں شریک رہا۔ ہم چربی کھایا کرتے تھے اور تیل چھوڑ دیا کرتے تھے۔ میں نے ان سے مشرکین کے برتنوں میں کھانے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ہم ان کے بارے میں سوال نہیں کیا کرتے تھے۔