(۳۴۵۲۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ سُوَیْد بْنِ غَفَلَۃَ ، قَالَ : شَہِدْنَا الْیَرْمُوکَ ، فَاسْتَقْبَلْنَا عُمَرَ ، وَعَلَیْنَا الدِّیبَاجُ وَالْحَرِیرُ فَأَمَرَ فَرُمِیْنَا بِالْحِجَارَۃِ ، قَالَ : فَقُلْنَا : مَا بَلَغَہُ عَنَّا ؟ قَالَ : فَنَزَعَنَاہُ ، وَقُلْنَا : کَرِہَ زِیَّنَا ، فَلَمَّا اسْتَقْبَلْنَا رَحَّبَ بِنَا ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّکُمْ جِئْتُمُونِی فِی زِیِّ أَہْلِ الشِّرْک إِنَّ اللَّہَ لَمْ یَرْضَ لِمَنْ قَبْلَکُمَ الدِّیبَاجَ وَالْحَرِیرَ۔
(٣٤٥٢٩) حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ ہم یرموک کی لڑائی سے واپس آئے تو حضرت عمر ہمارے استقبال کے لیے آئے۔ اس وقت ہمارے جسم پر ریشم کا لباس تھا۔ حضرت عمر نے لوگوں کو حکم دیا کہ انھیں پتھر مارے جائیں۔ ہم نے کہا کہ انھیں ہمارے بارے میں نہ جانے کیا خبر ملی ہے ؟ پھر ہم نے ریشم کے کپڑے اتار دیئے اور کہا کہ انھیں ہمارا یہ حلیہ ناپسند آیا ہے۔ پھر جب ہم گئے تو انھوں نے ہمارا استقبال کیا اور فرمایا کہ پہلے تم مشرکین کے حلیے میں آئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں کے لیے بھی ریشم کو پسند نہیں کیا ہے۔