(۳۴۵۳۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمْنَا مَعَ عُمَرَ الشَّامَ ، أَنَاخَ بَعِیرَہُ ، وَذَہَبَ لِحَاجَتِہِ ، فَأَلْقَیْتُ فَرْوَتِی بَیْنَ شُعْبَتَیَ الرَّحْلِ ، فَلَمَّا جَائَ رَکْبٌ عَلَی الْفَرْوَۃِ فَلَقِینَا أَہْلَ الشَّامِ یَتَلَقَّوْنَ عُمَرَ ، فَجَعَلُوا یَنْظُرُونَ فَجَعَلْتُ أُشِیرُ لَہُمْ إِلَیْہِ ، قَالَ : یَقُولُ عُمَرَ : تَطْمَحُ أَعْیُنُہُمْ إِلَی مَرَاکِبَ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَہُ ، یُرِیدُ مَرَاکِبَ الْعَجَمِ۔
(٣٤٥٣٥) حضرت عمر کے خادم حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ جب ہم حضرت عمر کے ساتھ شام آئے تو انھوں نے اپنے اونٹ کو بٹھایا اور حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ میں نے کجاوے میں پوستین بچھا دی، جب وہ واپس آئے تو پوستین پر سوار ہوئے۔ پھر ہم اہل شام کو ملے وہ مجھ سے حضرت عمر کا پوچھتے تھے تو میں ان کی طرف اشارہ کرتا تھا۔ ان کی صورتحال دیکھ کر حضرت عمر فرماتے تھے کہ ان کی آنکھیں ان سواریوں کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہیں جو درستی سے خالی ہیں۔ یعنی عجمیوں کی سواریوں کی طرف۔