(۳۴۵۴۲) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِی الْعُمَیْسِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی قَیْسُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عُمَرُ الشَّامَ خَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : لاَ أَعْرِفَنَّ رَجُلاً طَوَّلَ لِفَرَسِہِ فِی جَمَاعَۃٍ مِنَ النَّاسِ ، قَالَ : فَأَتَی بِغُلاَمٍ یُحْمَلُ ، قَدْ ضَرَبَتْہُ رِجْلُ فَرَسٍ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : مَا سَمِعْت مَقَالَتِی بِالأَمْسِ ، قَالَ : بَلَی ، یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَ : فَمَا حَمَلَک عَلَی مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : رَأَیْتُ مِنَ الطَّرِیقِ خَلْوَۃً ، قَالَ : مَا أَرَاک تَعْتَذِرُ بِعُذْرٍ ، مَنْ رَجُلانِ یَحْتسبَانِ عَلَی ہَذَا ، فَیُخْرِجَانِہِ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَیُوَسِّعَانِہِ ضَرْبًا ؟ وَالْقَوْمُ سُکُوتٌ ، لاَ یُجِیبُہُ مِنْہُمْ أَحَدٌ ، قَالَ : ثُمَّ أَعَادَ مَقَالَتَہُ ، فَقَالَ لَہُ أَبُو عُبَیْدَۃَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَمَا تَرَی فِی وُجُوہِ الْقَوْمِ کَرَاہَۃً ، أَنْ تَفْضَحَ صَاحِبَہُمْ ، قَالَ : فَقَالَ لأَہْلِ الْغُلاَمِ : انْطَلِقُوا بِہِ فَعَالِجُوہُ فَوَاللہِ لَئَنْ حَدَثَ بِہِ حَدَثٌ لأَجْعَلَنَّکَ نَکَالاً ، قَالَ : فَبَرِئَ الْغُلاَمُ وَعَافَاہُ اللَّہُ۔
(٣٤٥٤٢) حضرت طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) شام آئے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص لوگوں کے درمیان اپنے گھوڑے کی لگام کو ڈھیلا نہ کرے۔ پھر اگلے دن آپ کے پاس ایک غلام لایا گیا جس کو اس کے گھوڑے نے لات ماری تھی۔ حضرت عمر نے اس سے فرمایا کہ کیا کل تم نے میری بات نہیں سنی تھی ؟ اس نے کہا اے امیر المومنین ! میں نے آپ کی بات سنی تھی۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ پھر تم نے ایسی حرکت کیوں کی ؟ اس نے کہا کہ میں نے راستہ خالی دیکھا تو جانور کی رسی ڈھیلی کردی۔ پھر حضرت عمر نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ کون دو آدمی اسے مسجد سے باہر لے جا کر اسے سزا دیں گے۔ یہ بات سن کر کسی نے جواب نہ دیا۔ حضرت عمر نے پھر اپنی بات دہرائی تو حضرت ابو عبیدہ نے عرض کیا کہ اے امیر المومنین ! لوگوں کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ ان کا ساتھی یوں رسوا ہو۔ پھر حضرت عمر نے غلام کے رشتہ داروں سے کہا کہ اسے لے جاؤ اور اس کا علاج کراؤ۔ اگر آئندہ کسی نے یہ حرکت کی تو میں اسے سزا دوں گا۔ پھر وہ لڑکا درست ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے عافیت عطا فرمائی۔