(۳۴۵۷۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ أَظْہَرَ الإِسْلاَمَ سَبْعَۃٌ : رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَکْرٍ ، وَبِلاَلٌ ، وَخَبَّابٌ ، وَصُہَیْبٌ ، وَعَمَّارٌ ، وَسُمَیَّۃُ أُمُّ عَمَّارٍ ، فَأَمَّا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَہُ عَمُّہُ ، وَأَمَّا أَبُو بَکْرٍ فَمَنَعَہُ قَوْمُہُ ، وَأُخِذَ الآخَرُونَ فَأُلْبِسُوا أَدْرَاعَ الْحَدِیدِ ، وَصَہَرُوہُمْ فِی الشَّمْسِ حَتَّی بَلَغَ الْجَہْدُ مِنْہُمْ کُلَّ مَبْلَغٍ ، فَأَعْطَوْہُمْ مَا سَأَلُوا ، فَجَائَ إِلَی کُلِّ رَجُلٍ مِنْہُمْ قَوْمَہُ بِأَنْطَاعِ الأَدَمِ فِیہَا الْمَائُ ، فَأَلْقَوْہُمْ فِیہَا ، ثُمَّ حَمَلُوہُ بِجَوَانِبِہِ ، إِلاَّ بِلاَلاً ، فَلَمَّا کَانَ الْعَشِیُّ جَائَ أَبُو جَہْلٍ ، فَجَعَلَ یَشْتُمُ سُمَیَّۃَ وَیَرْفُثُ ، ثُمَّ طَعَنَہَا فِی قُبُلِہَا ، فَہِیَ أَوَّلُ شَہِیدٍ اُسْتُشْہِدَ فِی الإِسْلاَمِ ، إِلاَّ بِلاَلا، فَإِنَّہُ ہَانَتْ عَلَیْہِ نَفْسُہُ فِی اللہِ حَتَّی مَلُّوا فَجَعَلُوا فِی عُنُقِہِ حَبْلاً ، ثُمَّ أَمَرُوا صِبْیَانَہُمْ ، فَاشْتَدُّوا بِہِ بَیْنَ أَخْشَبَیْ مَکَّۃَ ، وَجَعَلَ یَقُولُ : أَحَدٌ أَحَدٌ۔
(٣٤٥٧٠) حضرت مجاہد (رض) فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے اسلام لانے والے سات خوش نصیب ہیں، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابوبکر، حضرت بلال، حضرت خباب، حضرت صہیب، حضرت عمار اور حضرت عمار کی والدہ حضرت سمیہ (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف دینے سے ان کے چچا نے روکا ہوا تھا اور حضرت ابوبکر (رض) کو تکلیف دینے سے ان کی قوم والوں نے باقی تمام مسلمانوں کو کفار پکڑ لیتے اور لوہے کے طوق ان کے گلوں میں ڈال کر ان کو سورج کی تپش میں جھلسنے کے لیے ڈال دیتے یہاں تک کہ ان لوگوں نے اپنی پوری کوشش کرلی۔ پھر جو انھوں نے مانگا وہ ان کو دیا گیا پھر ان میں سے ہر ایک کے پاس ان کی قوم کے لوگ آئے چمڑے کا تھیلا لے کر جس میں پانی تھا، انھوں نے اس میں ڈال دیا اور پھر ان کے پہلوں سے پکڑ کر اٹھایا سوائے حضرت بلال (رض) کے جب شام ہوئی تو ابو جہل آیا اور اس نے حضرت سمیہ (رض) کو گالیاں دینا اور برا بھلا کہنا شروع کردیا اور ان کی شرم گاہ میں نیزہ مار کر شہید کردیا، یہ پہلی شہیدہ تھیں جو اسلام میں شہید ہوئیں سوائے حضرت بلال (رض) کے ان کو اللہ کی راہ میں خوب تکلیف (تذلیل) دی گئی یہاں تک کہ کفار بھی تنگ آ کر اکتا گئے، انھوں نے حضرت بلال (رض) کی گردن میں رسی ڈال دی اور پھر بچوں کو حکم دیا تو وہ ان کو لے کر مکہ کی گلیوں میں گھماتے اور حضرت بلال (رض) احد احد فرماتے جاتے۔