(۳۴۷۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ رَجَائٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُہُمْ لِکِتَابِ اللہِ، فَإِنْ کَانُوا فِی الْقِرَائَۃِ سَوَائً فَأَعْلمُہمْ بِالسُّنَّۃِ، فَإِنْ کَانُوا فِی السُّنَّۃِ سَوَائً، فَأَقْدَمُہُمْ ہِجْرَۃً، فَإِنْ کَانُوا فِی الْہِجْرَۃِ سَوَائً، فَأَقْدَمُہُمْ سِلْمًا، وَلاَ یَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِی سُلْطَانِہِ، وَلاَ یَقْعُدْ فِی بَیْتِہِ عَلَی تَکْرِمَتِہِ إِلاَّ بِإِذْنِہِ۔
(مسلم ۶۹۰۔ ابوداؤد ۳/۵۸۳)
(٣٤٧٠) حضرت ابو مسعود انصاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو کتاب اللہ کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے، اگر قراءت میں سب برابر ہوجائیں تو جو سنت کا سب سے زیادہ عالم ہو وہ امامت کرائے، اگر سنت کے علم میں بھی سب برابر ہوں تو جو ہجرت کے اعتبار سے زیادہ پرانا ہے وہ امامت کرائے، اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو جو اسلام کے اعتبار سے زیادہ پرانا ہے وہ امامت کرائے، کوئی آدمی دوسرے آدمی کی سلطنت میں ہرگز امامت نہ کرائے اور کوئی آدمی کسی کے کمرے میں اس کے تکیے پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے۔