(۳۴۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، وَزَیْدِ بْنِ إیَاسٍ قَالاَ: حدَّثَنَا مُرَّۃُ بْنُ شَرَاحِیلَ، قَالَ: کُنْتُ فِی بَیْتٍ فِیہِ عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَحُذَیْفَۃُ، وَأَبُو مُوسَی الأَشْعَرِیُّ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ، فَقَالَ ہَذَا لِہَذَا: تَقَدَّمْ، وَقَالَ ہَذَا لِہَذَا: تَقَدَّمْ، وعبد اللہ بین أبی مُوسَی وَحُذَیْفَۃ، فَأَخَذَا بِنَاحِیَتَیْہِ فَقَدَّمَاہُ، قُلْتُ: مِمَّ ذَلِکَ ؟ قَالَ: إِنَّہُ شَہِدَ بَدْرًا۔
(٣٤٧٢) حضرت مرہ بن شراحیل کہتے ہیں کہ میں ایک کمرے میں تھا، جس میں حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری بھی تھے۔ اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا ۔ ہر ایک نے دوسرے سے کہا آپ آگے ہوجائیں، حضرت عبداللہ، حضرت ابو موسیٰ اور حضرت حذیفہ کے درمیان تھے۔ ان دونوں نے انھیں پکڑ کر آگے کردیا۔ میں نے پوچھا کہ ان کی وجہِ تقدم کیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ جنگ بدر میں شریک تھے۔