(۳۴۷۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَۃَ، قَالَ: لَما رَجَعَ قَوْمِی مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالُوا لَہُ: إِنَّہُ قَالَ لَنَا: لِیَؤُمَّکُمْ أَکْثَرُکُمْ قِرَائَۃً لِلْقُرْآنِ، قَالَ: فَدَعَوْنِی فَعَلَّمُونِی الرکوع وَالسُّجُودَ، فَکُنْت أُصَلِّی بِہِمْ وَعَلَیَّ بُرْدَۃٌ مَفْتُوقَۃٌ، قَالَ: فَکَانُوا یَقُولُونَ لأَبِی: أَلاَ تُغَطِّی عَنَّا اسْتِ ابْنِک۔ (ابوداؤد ۵۸۷۔ احمد ۵/۷۱)
(٣٤٧٤) حضرت عمرو بن سلمہ کہتے ہیں جب ہماری قوم نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے واپس آئی تو انھوں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے فرمایا کہ تم میں قرآن کی سب سے زیادہ تلاوت کرنے والا تمہاری امامت کرائے۔ چنانچہ انھوں نے مجھے بلایا اور مجھے رکوع سجدہ سکھایا۔ میں انھیں نماز پڑھاتا تھا اور میرے اوپر ایک پھٹی ہوئی چادر ہوتی تھی۔ وہ میرے والد سے کہا کرتے تھے کہ کیا تم اپنے بیٹے کی سرین ڈھک نہیں سکتے ؟ !