(۳۴۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ حَبِیبٍ الْجَرْمِیِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَۃَ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّہُمْ وَفَدُوا إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ یَنْصَرِفُوا قَالُوا: قلْنَا لَہُ: یَا رَسُولَ اللہِ، مَنْ یُصَلِّی بِنَا ؟ قَالَ: أَکْثَرُکُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ، أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ، فَلَمْ یَکُنْ فِیہِمْ أَحَدٌ جَمَعَ مِنَ الْقُرْآنِ مَا جَمَعْتُ، قَالَ: فَقَدَّمُونِی وَأَنَا غُلاَمٌ، فَکُنْت أُصَلِّی بِہِمْ وَعَلَیَّ شَمْلَۃٌ، قَالَ: فَمَا شَہِدْتُ مَجْمَعًا مِنْ جَرْمٍ إِلاَّ کُنْتُ إمَامَہُمْ، وَأُصَلِّی علی جَنَائِزِہِمْ إلَی یَوْمِی ہَذَا۔ (ابوداؤد ۵۸۸۔ احمد ۵/۲۹)
(٣٤٧٧) حضرت عمرو بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ وفد کی صورت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب واپس جانے لگے تو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہمیں نماز کون پڑھائے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تمہیں وہ نماز پڑھائے جو قرآن زیادہ جانتا ہو۔ حضرت عمرو بن سلمہ فرماتے ہیں کہ اس وقت ہمارے قبیلے میں مجھ سے زیادہ قرآن کا یاد کرنے والا کوئی نہ تھا۔ چنانچہ میرے نوعمر ہونے کے باوجود لوگوں نے مجھے آگے کردیا۔ پس میں انھیں نماز پڑھا یا کرتا تھا اور میرے اوپر ایک چادر ہوتی تھی۔ میں قبیلہ جرم کی جس مجلس میں بھی ہوتا میں ہی نماز پڑھاتا، اور میں اب تک ان کے جنازے پڑھا رہا ہوں۔