(۳۴۹۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی، قَالَ: جَائَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللہِ، إنَّ الْمَدِینَۃَ أَرْضُ ہَوَامٍّ وَسِبَاخٍ، فَہَلْ لِی رُخْصَۃٌ أَنْ أُصَلِّیَ الْعِشَائَ وَالْفَجْرَ فِی بَیْتِی ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَتَسْمَعُ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ؟ قَالَ: فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَحَیَّہَلاَ۔ (حاکم ۲۴۷)
(٣٤٩٢) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حضرت ابن ام مکتوم نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مدینہ میں بہت سے حشرات اور دلدلی جگہیں ہیں، کیا میرے لیے رخصت ہے کہ میں عشاء اور فجر کی نماز اپنے گھر میں پڑھ لوں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا تم حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ سنتے ہو ؟ انھوں نے کہا جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو پھر نماز کے لیے ضرور آؤ۔