(۳۵۰۲۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیِّ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : کَتَبَ أَبُو مُوسَی إِلَی عُمَرَ : إِنَّہُ تَأْتِینَا کُتُبٌ مَا نَعْرِفُ تَأْرِیخَہَا ، فَأَرِّخْ ، فَاسْتَشَارَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ : أَرِّخْ لِمَبْعَثِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ : أَرِّخْ لِمَوْتِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : أُؤَرِّخُ لِمُہَاجِرِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّ مُہَاجِرَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرْقٌ بَیْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ ، فَأَرَّخَ۔
(٣٥٠٢٥) حضرت شعبی سے مروی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عمر (رض) کو لکھا کہ ہمارے پاس آپ کے مکتوب گرامی آئے ہیں ہمیں ان کی تاریخ کا علم نہیں ہوتا لہٰذا آپ ہمارے لیے تاریخ کا تعین کریں، حضرت عمر (رض) نے صحابہ کرام (رض) سے مشورہ فرمایا، بعض صحابہ نے رائے دی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے تاریخ مقرر کی جائے، اور دیگر بعض صحابہ کی رائے تھی کہ حضور (رض) کی وفات سے تاریخ مقرر کی جائے، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت سے تاریخ مقرر کروں گا کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہے، پس انھوں نے ہجرت سے تاریخ مقرر فرمائی۔