(۳۵۱۴۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ : {یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِینَ إِلَی الرَّحْمَن وَفْدًا} ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : ہَلْ تَدْرُونَ عَلَی أَیِّ شَیْئٍ یُحْشَرُونَ ؟ أَمَا وَاللہِ مَا یُحْشَرُونَ عَلَی أَقْدَامِہِمْ ، وَلَکِنَّہُمْ یُؤْتَوْنَ بِنُوقٍ لَمْ تَرَ الْخَلاَئِقُ مِثْلَہَا ، عَلَیْہَا رِحَالُ الذَّہَبِ ، وَأَزِمَّتُہَا الزَّبَرْجَدُ ، فَیَجْلِسُونَ عَلَیْہَا ، ثُمَّ یُنْطَلَقُ بِہِمْ حَتَّی یَقْرَعُوا بَابَ الْجَنَّۃِ۔ (طبری ۱۶)
(٣٥١٤٨) حضرت علی (رض) قرآن کریم کی آیت { یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا } کے متعلق فرماتے ہیں کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کس چیز پر ان کو جمع کیا جائے گا ؟ خدا کی قسم ان کو قدموں کے بل (چل کر) نہیں جمع کیا جائے گا بلکہ وہ ایسے اونٹوں پر آئیں گے جن کے مثل لوگوں نے پہلے دیکھا نہ ہوگا ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے، ان کی لگا میں زبر جد کی ہوں گی وہ متقین ان پر بیٹھیں ہوں گے پھر وہ جانور ان کو لے کر چلیں گے یہاں تک کہ وہ جنت کے دروازوں کو کھٹکھٹائیں گے۔