(۳۵۱۶۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنْ یَعْلَی بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَرَأَ عَلَی الْمِنْبَرِ : {جَنَّاتُ عَدْنٍ} ، فَقَالَ : وَہَلْ تَدْرُونَ مَا جَنَّاتُ عَدْنٍ ؟ قَالَ : قَصْرٌ فِی الْجَنَّۃِ لَہُ خَمْسَۃُ آلاَفِ بَابٍ ، عَلَی کُلِّ بَابٍ خَمْسَۃٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا مِنَ الْحُورِ الْعِینِ ، لاَ یَدْخُلُہُ إِلاَّ نَبِیٌّ ، ہَنِیئًا لِصَاحِبِ الْقَبْرِ ، وَأَشَارَ إِلَی قَبْرِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَصِدِّیقٌ ہَنِیئًا لأَبِی بَکْرٍ ، وَشَہِیدٌ وَأَنَّی لِعُمَرَ بِالشَّہَادَۃ ، ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِی أَخْرَجَنِی مِنْ مَنْزِلِی ، إِنَّہُ لَقَادِرٌ عَلَی أَنْ یَسُوقَہَا إِلَیَّ۔
(٣٥١٦٦) حضرت عمر بن خطاب (رض) نے منبر پر قرآن کریم کی آیت جنات عدن تلاوت فرمائی اور فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو جنات عدن کیا ہیں ؟ فرمایا وہ جنت میں ایک محل ہے جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پچیس ہزار حوریں ہیں اس میں صرف نبی داخل ہوں گے، مبارک خوشخبری ہے اس قبر والے کیلئے اور آپ (رض) نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک کی طرف اشارہ فرمایا اور اس میں صدیق داخل ہوں گے خوشخبری حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے لیے اور اس میں شہید داخل ہوں گے اور بیشک میں شہادت کا منتظر ہوں وَأَنَّی لِعُمَرَ بِالشَّہَادَۃ پھر فرمایا، قسم اس ذات کی جس نے مجھے میرے گھر سے نکالا وہ اس بات پر قادر ہے کہ اس شہادت کو میری طرف لے آئے۔