(۳۵۱۶۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ بُشَیْرِ بْنِ کَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ کَعْبٌ : إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ یَاقُوتَۃً لَیْسَ فِیہَا صَدْعٌ ، وَلاَ وَصْلٌ ، فِیہَا سَبْعُونَ أَلْفَ دَارٍ ، فِی کُلِّ دَارٍ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْحُورِ الْعِینِ ، لاَ یَدْخُلُہَا إِلاَّ نَبِیٌّ ، أَوْ صِدِّیقٌ ، أَوْ شَہِیدٌ ، أَوْ إِمَامٌ عَادِلٌ ، أَوْ مُحَکَّمٌ فِی نَفْسِہِ ، قَالَ : قُلْنَا : یَا کَعْبُ، وَمَا الْمُحَکَّمُ فِی نَفْسِہِ ؟ قَالَ : الرَّجُلُ یَأْخُذُہُ الْعَدُوُّ ، فَیُحَکِّمُونَہُ بَیْنَ أَنْ یَکْفُرَ ، أَوْ یَلْزَمَ الإِسْلاَمَ فَیُقْتَلُ ، فَیَخْتَارُ أَنْ یَلْزَمَ الإِسْلاَمَ۔
(٣٥١٦٨) حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنت میں ایک یا قوت ہے جس میں نہ سوراخ ہے اور نہ ہی جوڑ ہے جنت میں ستر ہزار گھر ہیں اور ہر گھر میں ستر ہزار حوریں ہیں اس میں صرف نبی، صدیق، شہید، عادل بادشاہ یا وہ شخص داخل ہوگا جو اپنے نفس پر فیصلہ کرنے والا ہوگا راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اے کعب ؟ محکم فی نفسہ کون شخص ہے ؟ فرمایا وہ شخص جس کو دشمن پکڑ لیں پھر اس کو اختیار دیں کہ وہ کفر اختیار کرلے یا پھر اسلام کو لازم پکڑے تو اس کو شہید کردیا جائے اور وہ اسلام پر ثابت قدم رہنے کو لازم پکڑے۔