(۳۵۱۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : أَصْحَابُ الأَعْرَافِ یُنْتَہَی بِہِمْ إِلَی نَہْرٍ ، یُقَالَ لَہُ : الْحَیَاۃُ ، حَافَاتُہُ قَصَبُ ذَہَبٍ ، قَالَ : أُرَاہُ قَالَ : مُکَلَّلٌ بِاللُّؤْلُؤِ ، فَیَغْتَسِلُونَ مِنْہُ اغْتِسَالَۃً ، فَتَبْدُو فِی نُحُورِہِمْ شَامَۃٌ بَیْضَائُ ، ثُمَّ یَعُودُونَ فَیَغْتَسِلُونَ ، فَکُلَّمَا اغْتَسَلُوا ازْدَادَتْ بَیَاضًا ، فَیُقَالَ لَہُمْ : تَمَنَّوْا مَا شِئْتُمْ ، فَیَتَمَنَّوْنَ مَا شَاؤُوا ، فَیُقَالَ : لَکُمْ مَا تَمَنَّیْتُمْ وَسَبْعُونَ ضِعْفًا ، فَہُمْ مَسَاکِینُ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔ (طبری ۱۹۱)
(٣٥١٧٥) حضرت عبداللہ بن حارث (رض) فرماتے ہیں کہ اصحاب الاعراف کو نہر حیات پر لایا جائے گا، ان کے کنارے سونے کے بانسوں کے ہوں گے۔ موتیوں کا تاج پہنے ہوئے، وہ اس نہر میں نہائیں گے جس کی وجہ سے ان کی گردن سفید ہوجائے گی اور پھر وہ دوبارہ لوٹیں گئے اور نہائیں گے، جب بھی نہائیں گے ان کی سفیدی میں اضافہ ہوگا، ان سے کہا جائے گا جو چاہو تمنا کرو، وہ جو چاہیں گے تمنا کریں گے، ان سے کہا جائے گا تمہارے لیے وہ سب ہے جس کی تم نے تمنا کی اور ستر گنا اور بھی ہے، یہ لوگ مساکین اہل الجنۃ میں سے ہیں۔