(۳۵۲۴۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، وعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ نَبِیٌّ مِنَ الأَنْبِیَائِ : اللَّہُمَ ، الْعَبْدُ مِنْ عَبِیدِکَ یَعْبُدُک ، وَیُطِیعُک ، وَیَجْتَنِبُ سَخَطَک ، تَزْوِی عَنْہُ الدُّنْیَا ، وَتَعْرِضُ لَہُ الْبَلاَئَ ، وَالْعَبْدُ یَعْبُدُ غَیْرَک ، وَیَعْمَلُ بِمَعَاصِیک ، فَتَعْرِضُ لَہُ الدُّنْیَا ، وَتَزْوِی عَنْہُ الْبَلاَئَ ، قَالَ : فَأَوْحَی اللَّہُ إِلَیْہِ ، أَنَّ الْعِبَادَ وَالْبَلاَدَ لِی ، کُلٌّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِی ، فَأَمَّا عَبْدِی الْمُؤْمِنُ ، فَتَکُونُ لَہُ سَیِّئَاتٌ ، فَإِنَّمَا أَعْرِضُ لَہُ الْبَلاَئَ ، وَأَزْوِی عَنْہُ الدُّنْیَا ، فَتَکُونُ کَفَّارَۃً لِسَیِّئَاتِہِ ، وَأُجْزِیَہُ إِذَا لَقِیَنِی ، وَأَمَّا عَبْدِی الْکَافِرُ فَتَکُونُ لَہُ الْحَسَنَاتُ ، فَأَزْوِی عَنْہُ الْبَلاَئَ ، وَأَعْرِضُ لَہُ الدُّنْیَا ، فَتَکُونُ جَزَائً لِحَسَنَاتِہِ ، وَأُجْزِیہِ بِسَیِّئَاتِہِ حِینَ یَلْقَانِی۔
(٣٥٢٤٣) حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبیوں میں سے ایک نبی نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا اے اللہ ! تیرے بندوں میں سے ایک بندہ تیری عبادت کرتا ہے تیری اطاعت کرتا ہے اور آپ کی ناراضگی سے بچتا ہے، آپ دنیا کو اس سے دور کر کے مصائب اس کے قریب فرما دیتے ہیں اور وہ بندہ جو تیرے غیر کی پوجا کرتا ہے اور تیرے نافرمانی والے اعمال کرتا ہے آپ دنیا اس کے قریب اور مصائب کو اس سے دور کردیتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ سب بندے اور شہر میرے ہیں سب میری تسبیح کرتے ہیں بہرحال مومن بندہ، اس کے کچھ گناہ بھی ہوتے ہیں میں مصائب کو اس کو قریب کر کے دنیا کو اس سے دور کردیتا ہوں وہ اس کی خطاؤں کا کفارہ ہوجاتا ہے اور جب وہ میرے پاس آئے گا میں اس کو بدلہ دوں گا اور میرا کافر بندہ اس کی کچھ نیکیاں بھی ہوتی ہیں میں بلاؤں کو اس سے دور اور دنیا کو قریب کردیتا ہوں وہ اس کی نیکیوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں اور میں اس کے گناہوں کی سزا اس کو تب دوں گا جب وہ میرے پاس آئے گا۔