(۳۵۳۰۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ یُکْسَی حُلَّۃً مِنْ النَّارِ : إِبْلِیسُ ، یَضَعُہَا عَلَی حَاجِبِہِ ، وَیَسْحَبُہَا مِنْ خَلْفِہِ ، وَذُرِّیَّتُہُ مِنْ خَلْفِہِ ، وَہُوَ یُنَادِی : یَا ثُبُورَہُ ، وَیُنَادُونَ : یَا ثُبُورَہُمْ ، قَالَ : فَیُقَالَ لَہُمْ : {لاَ تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا کَثِیرًا}۔ (احمد ۱۵۲۔ طبری ۱۸)
(٣٥٣٠٧) حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سب سے پہلے جس کو آگ کا لباس پہنایا جائے گا وہ ابلیس ہے، اس کے ماتھے پر رکھا جائے گا اور اس کو پیچھے سے گھسیٹا جائے گا اور اس کی اولاد بھی اس کے پیچھے ہوگی وہ پکارے گا اے ہلاکت اس کی ذریت پکارے گی اے ان کی ہلاکت ! ان کو کہا جائے گا کہ { لاَ تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا کَثِیرًا } ایک نہیں کئی ہلاکتوں کو پکارو۔