(۳۵۳۱۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ أَبِی الْمُخَارِقِ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ اللہِ الْجَدَلِیِّ ، قَالَ: أَتَیْتُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ ، فَإِذَا عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ ، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو ، وَکَعْبُ الأَحْبَارِ یَتَحَدَّثُونَ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ ، فَقَالَ عُبَادَۃُ : إِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ ، جُمِعَ النَّاسُ فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ فَیُنْفُذُہُمَ الْبَصَرُ ، وَیُسْمَعُہُمَ الدَّاعِی ، وَیَقُولُ اللَّہُ : {ہَذَا یَوْمُ الْفَصْلِ جَمَعَنَاکُمْ وَالأَوَّلِینَ ، فَإِنْ کَانَ لَکُمْ کَیْدٌ فَکِیدُونِ} الْیَوْمَ لاَ یَنْجُو مِنِّی جَبَّارٌ عَنِیدٌ ، وَلاَ شَیْطَانٌ مَرِیدٌ۔
قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو : إِنَّا نَجِدُ فِی الْکِتَابِ : أَنَّہُ یَخْرُجُ یَوْمَئِذٍ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ ، فَیَنْطَلِقُ مُعْنِقًًَا ، حَتَّی إِذَا کَانَ بَیْنَ ظَہْرَانَیِ النَّاسِ ، قَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، إِنِّی بُعِثْتُ إِلَی ثَلاَثَۃٍ ، أَنَا أَعْرَفُ بِہِمْ مِنَ الْوَالِدِ بِوَلَدِہِ ، وَمِنَ الأَخِ بِأَخِیہِ ، لاَ یُغْنِیہِمْ مِنِّی وَزَرٌ ، وَلاَ تُخْفِیہِمْ مِنِّی خَافِیَۃٌ : الَّذِی جَعَلَ مَعَ اللہِ إِلَہًا آخَرَ ، وَکُلِّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ ، وَکُلِّ شَیْطَانٍ مَرِیدٍ ، قَالَ : فَیَنْطَوِی عَلَیْہِمْ ، فَیَقْذِفُہُمْ فِی النَّارِ قَبْلَ الْحِسَابِ بِأَرْبَعِینَ ۔ قَالَ حُصَیْنٌ: إِمَّا أَرْبَعِینَ عَامًا ، أَوْ أَرْبَعِینَ یَوْمًا۔
قَالَ : وَیُہْرَعُ قَوْمٌ إِلَی الْجَنَّۃِ ، فَتَقُولُ لَہُمَ الْمَلاَئِکَۃُ : قِفُوا لِلْحِسَابِ ، قَالَ : فَیَقُولُونَ : وَاللہِ مَا کَانَتْ لَنَا أَمْوَالٌ ، وَمَا کُنَّا بِعُمَّالٍ ، قَالَ : فَیَقُولُ اللَّہُ : صَدَقَ عِبَادِی ، أَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَی بِعَہْدِہِ ، اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ ، قَالَ : فَیَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ الْحِسَابِ بِأَرْبَعِینَ ، إِمَا قَالَ : عَامًا ، وَإِمَّا یَوْمًا۔
(٣٥٣١٥) حضرت ابو عبداللہ الجدلی فرماتے ہیں کہ جب میں بیت المقدس آیا تو وہاں پر میں نے حضرت عبادہ بن صامت، حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) اور حضرت کعب الاحبار (رض) کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے پایا۔ حضرت عبادہ نے کہا کہ قیامت کے دن لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ فیصلے کا دن ہے۔ ہم نے تمہیں اور پچھلے لوگوں کو جمع کیا ہے اگر تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے تو کرو۔ آج مجھ سے کوئی سرکش ظالم اور شیطان نہیں بچ سکتا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے فرمایا کہ ہمیں کتاب میں ملتا ہے کہ جہنم سے ایک گردن نکلے گی اور کہے گی کہ اے لوگو ! مجھے تین قسم کے گناہ گاروں کی طرف بھیجا گیا ہے۔ میں انھیں خوب جانتی ہوں۔ انھیں مجھ سے کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والے کی طرف بھیجا گیا ہے۔ ہر ظالم سرکش کی طرف بھیجا گیا ہے اور ہر باغی شیطان کی طرف بھیجا گیا ہے پھر وہ گردن ان لوگوں کو اچک لے گی اور حساب شروع ہونے سے چالیس دن یا چالیس سال پہلے انھیں آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ پھر ایک قوم تیزی سے جنت کی طرف جا رہی ہوگی۔ فرشتے ان سے کہیں گے حساب کے لیے ٹھہرو۔ وہ کہیں گے کہ ہم نہ تو مال دار تھے اور نہ حکمران تھے۔ ہمارا حساب کیسا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے بندوں نے سچ کہا۔ میں وعدے کو پورا کرنے والا ہوں۔ جنت میں داخل ہو جاؤ پھر وہ حساب شروع ہونے سے چالیس دن پہلے یا چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔