(۳۵۳۳۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سُلَیْمَانَ الْعَصَرِیَّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عُقْبَۃُ بْنُ صُہْبَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَکْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : یُحْمَلُ النَّاسُ عَلَی الصِّرَاطِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، فَتَقَادَعُ بِہِمْ جَنْبَتَا الصِّرَاطِ تَقَادُعَ الْفِرَاشِ فِی النَّارِ ، قَالَ : فَیَتَحَنَّنُ اللَّہُ بِرَحْمَتِہِ عَلَی مَنْ یَشَائُ ، قَالَ : ثُمَّ یُؤْذَنُ لِلْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّبِیِّینَ وَالشُّہَدَائِ أَنْ یَشْفَعُوا ، فَیَشْفَعُونَ وَیُخْرِجُونَ ، وَیَشْفَعُونَ وَیُخْرِجُونَ ، فَیَشْفَعُونَ وَیُخْرِجُونَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہِ مَا یَزِنُ ذَرَّۃً مِنْ إیمَانٍ۔ (احمد ۴۳۔ بزار ۳۶۷۱)
(٣٥٣٣٣) حضرت ابوبکرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو قیامت کے دن پل صراط پر لایا جائے گا۔ لوگ اس پر سے یوں آگ میں گریں گے جیسے پروانے آگ میں گرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہے گا اپنی رحمت فرمائے گا۔ پھر فرشتوں، نبیوں اور شہداء سے کہا جائے گا کہ سفارش کرو۔ وہ سفارش کریں گے اور جہنمیوں کو جہنم سے نکالیں گے۔ پھر سفارش کریں گے پھر نکالیں گے۔ پھر سفارش کریں گے پھر نکالیں گے۔ پھر ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا۔