(۳۵۳۳۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی تَمِیمُ بْنُ غَیْلاَن بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ، أَنَّہُ قَالَ : أَیْنَ أَنْتَ مِنْ یَوْمِ جِیئَ بِجَہَنَّمَ ، قَدْ سَدَّتْ مَا بَیْنَ الْخَافِقَیْنِ ، وَقِیلَ : لَنْ تَدْخُلَ الْجَنَّۃَ حَتَّی تَخُوضَ النَّارَ ؟ فَإِنْ کَانَ مَعَکَ نُورٌ اسْتَقَامَ بِکَ الصِّرَاطُ ، فَقَدْ وَاللہِ نَجَوْتَ وَہُدَیْتَ ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ مَعَک نُورٌ تَشَبَّثَ بِکَ بَعْضُ خَطَاطِیفِ جَہَنَّمَ ، أَوْ کَلاَلِیبِہَا ، أَوْ شَبَابِیثِہَا ، فَقَدْ وَاللہِ رَدِیتَ وَہَوَیْتَ۔
(٣٥٣٣٧) حضرت ابودرداء (رض) فرماتے ہیں کہ تمہیں اس دن کی فکر کیوں نہیں جب جہنم کو لایا جائے گا اور وہ دونوں افقوں کو گھیر لے گا۔ اس دن کہا جائے گا کہ تم اس وقت تک جنت میں نہیں جاسکتے جب تک جہنم کا چکر نہ لگا لو۔ اگر تمہارے پاس نور ہوگا تو اس کے ذریعے صراط پر قائم رہو گے اور نجات پاؤ گے۔ اگر نور نہ ہوا تو جہنم کے کو نڈے تمہیں پکڑ لیں گے اور تم ہلاک ہو جاؤ گے۔