(۳۵۳۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ، عَنْ مُجَاہِدٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عُمَرُ مَکَّۃَ أَتَاہُ أَبُو مَحْذُورَۃَ وَقَدْ أَذَّنَ، فَقَالَ: الصَّلاَۃَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ، قَالَ: وَیْحَک، أَمَجْنُونٌ أَنْتَ ؟ أَمَا کَانَ فِی دُعَائِکَ الَّذِی دَعَوْتنَا مَا نَأْتِیک حَتَّی تَأْتِیَنَا۔
(٣٥٣٤) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمرم کہ تشریف لائے تو حضرت ابومحذورہ اذان دینے کے بعد ان کے پاس آئے اور کہنے لگے : اے امیر المؤمنین ! نماز کا وقت ہوگیا، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا تم پاگل ہو ؟ کیا ہمارے مسجد میں حاضر ہونے کے واسطے وہ پکار کافی نہیں جو تم دے چکے ہو۔