(۳۵۳۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَعْقُوبَ ، قَالَ : قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ: لاَ تُکْثِرُوا الْکَلاَمَ بِغَیْرِ ذِکْرِ اللہِ فَتَقْسُوْا قُلُوبُکُمْ ، فَإِنَّ الْقَلْبَ الْقَاسِی بَعِیدٌ مِنَ اللہِ ، وَلَکِنْ لاَ تَعْلَمُونَ ، لاَ تَنْظُرُوا فِی ذُنُوبِ الْعِبَادِ کَأَنَّکُمْ أَرْبَابٌ ، وَانْظُرُوا فِی ذُنُوبِکُمْ کَأَنَّکُمْ عَبِیدٌ ، فَإِنَّمَا النَّاسُ رَجُلاَنِ : مُبْتَلًی وَمُعَافًی ، فَارْحَمُوا أَہْلَ الْبَلاَئِ ، وَاحْمَدُوا اللَّہَ عَلَی الْعَافِیَۃِ۔
(٣٥٣٧١) حضرت محمد بن یعقوب کہتے ہیں عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے فرمایا : خدا کے ذکر کے سوا اور کوئی کلام کثرت سے مت کیا کرو ، ورنہ تمہارے دل سخت ہوجائیں گے۔ اور سخت دل اللہ تعالیٰ سے دور ہوتے ہیں لیکن تمہیں معلوم نہیں ہوتا۔ لوگوں کے گناہوں کو یوں مت دیکھا کرو جیسے کہ تم ہی رب ہو۔ بلکہ اپنے گناہوں کو یوں دیکھا کرو جیسے تم کوئی غلام ہو۔ کیونکہ لوگوں کی دو ہی حالتیں ہیں۔ ایک وہ جو کسی آزمائش میں مبتلا ہیں اور دوسرے وہ جو عافیت میں ہیں۔ چنانچہ مبتلا لوگوں پر رحم کیا کرو اور عافیت پر اللہ تعالیٰ کا شکر کیا کرو۔