(۳۵۳۷۵) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ أَبِی ثُمَامَۃَ ، قَالَ : قَالَ الْحَوَارِیُّونَ : یَا عِیسَی ، مَا الإِخْلاَصُ لِلَّہِ ؟ قَالَ : أَنْ یَعْمَلَ الرَّجُلُ الْعَمَلَ لاَ یُحِبُّ أَنْ یَحْمَدَہُ عَلَیْہِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ ، وَالْمُنَاصِحُ لِلَّہِ الَّذِی یَبْدَأُ بِحَقِّ اللہِ قَبْلَ حَقِّ النَّاسِ ، یُؤْثِرُ حَقَّ اللہِ عَلَی حَقِّ النَّاسِ ، وَإِذَا عُرِضَ أَمْرَانِ : أَحَدُہُمَا لِلدُّنْیَا ، وَالآخَرُ لِلآخِرَۃِ ، بَدَأَ بِأَمْرِ الآخِرَۃِ قَبْلَ أَمْرِ الدُّنْیَا۔
(٣٥٣٧٥) حضرت ابو ثمامہ کہتے ہیں : (عیسیٰ (علیہ السلام) کے) انصار نے عرض کیا : اے عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے لیے کسی چیز کو خالص کردینے کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا : آدمی کا اس حالت میں عمل کرنا کہ وہ یہ بات پسند نہ کرتا ہو کہ اس کے اس عمل پر لوگوں میں سے کوئی اس کی تعریف کرے۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہوجانے والا شخص وہ ہے جو لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں لگنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے، اور اللہ تعالیٰ کے حق کو لوگوں کے حق پر ترجیح دے۔ اور جب اس کے پیش نظر دو کام آجائیں ، ان میں سے ایک دنیا (کے فائدے) کے لیے ہو اور دوسرا آخرت (کے فائدے) کے لیے ہو تو وہ آخرت (کے فائدے) کے کام کو دنیا (کے فائدے) کے کام سے پہلے سر انجام دے۔