(۳۵۳۸۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : لَمَّا أَصَابَ دَاوُد الْخَطِیئَۃَ ، وَإِنَّمَا کَانَتْ خَطِیئَتُہُ ، أَنَّہُ لَمَّا أَبْصَرَ أَمْرَ بہَا فَعَزَلَہَا فَلَمْ یَقْرَبْہَا ، فَأَتَاہُ الْخَصْمَانِ فَتَسَوَّرا الْمِحْرَاب ، فَلَمَّا أَبْصَرَہُمَا قَامَ إلَیْہِمَا ، فَقَالَ : اخْرُجَا عَنِّی ، مَا جَائَ بِکُمَا إلَیَّ ، قَالَ : فقَالاَ : إنَّمَا نُکَلِّمُک بِکَلاَمُ یَسِیرٍ ، إنَّ ہَذَا أَخِی لَہُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَۃً وَلِیَ نَعْجَۃٌ وَاحِدَۃٌ وَہُوَ یُرِیدُ أَنْ یَأْخُذَہَا مِنِّی ، فَقَالَ دَاوُد : وَاللہِ ، إِنَّہُ أَحَقُّ أَنْ یُکْسَرَ مِنْہُ مِنْ لَدُنْ ہَذَا إِلَی ہَذَا، یَعْنِی مِنْ أَنْفِہِ إِلَی صَدْرِہِ ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ : فَہَذَا دَاوُد قَدْ فَعَلَہُ ، فَعَرَفَ دَاوُد، أَنَّہُ إنَّمَا یُعْنَی بِذَلِکَ ، وَعَرَفَ ذَنْبَہُ فَخَرَّ سَاجِدًا أَرْبَعِینَ یَوْمًا وَأَرْبَعِینَ لَیْلَۃً ، ، وَکَانَتْ خَطِیئَتُہُ مَکْتُوبَۃً فِی یَدِہِ ، یَنْظُرُ إلَیْہَا لِکَیْ لاَ یَغْفُلَ حَتَّی نَبَتَ الْبَقْلُ حَوْلَہُ مِنْ دُمُوعِہِ مَا غَطَّی رَأْسَہُ ، فَنَادَی بَعْدَ أَرْبَعِینَ یَوْمًا : قَرِحَ الْجَبِینُ وَجَمَدَتِ الْعَیْنُ ، وَدَاوُد لَمْ یَرْجِعْ إلَیْہِ فِی خَطِیئَتِہِ بشَیْئٍ ، فَنُودِیَ : أَجَائِعٌ فَتُطْعَمُ ، أَوْ عُرْیَانُ فَتُکْسَی ، أَوْ مَظْلُومٌ فَتُنْصَرُ ، قَالَ : فَنَحَبَ نَحْبَۃً ہَاجَ مَا ثَمَّ مِنَ الْبَقْلِ حِینَ لَمْ یَذْکُرْ ذَنْبَہُ ، فَعِنْدَ ذَلِکَ غُفِرَ لَہُ، فَإِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ ، قَالَ لَہُ رَبُّہُ: کُنْ أَمَامِی ، فَیَقُولُ: أَیْ رَبِّ ذَنْبِی ذَنْبِی ، فَیَقُولُ اللَّہُ: کُنْ مِنْ خَلْفِی، فَیَقُولُ: أَیْ رَبِّ ذَنْبِی ذَنْبِی ، قَالَ : فَیَقُولُ لَہُ : خُذْ بِقَدَمِی ، فَیَأْخُذُ بِقَدَمِہِ۔
(٣٥٣٨٩) حضرت مجاہد کہتے ہیں : جب داؤد (علیہ السلام) سے لغزش ہوئی ، اور ان کی لغزش کا بھی یہ عالم تھا کہ جونہی آپ کو اس کا احساس ہوا ، آپ نے اسے ناپسند فرمایا اور ترک کردیا، اور دوبارہ کبھی اس کے قریب بھی نہ گئے ، تو ان کے پاس دو جھگڑنے والے (اپنا جھگڑا لے کر) آئے، اور دیوار پھلانگ کر عبادت گاہ میں جا گھسے۔ جب آپ نے انھیں دیکھا تو ان کی طرف بڑھے اور فرمایا : چلے جاؤمیرے پاس سے ، کس لیے یوں اندر چلے آئے ؟ راوی کہتے ہیں : انھوں نے جواب دیا : ہم آپ سے چھوٹی سی بات کریں گے، یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے بھیڑیں ہیں اور میرے پاس (صرف) ایک بھیڑ ہے اور یہ چاہتا ہے کہ وہ (ایک بھیڑ) بھی مجھ سے ہتھیا لے۔ اس پر داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : بخدا یہ اس لائق ہے کہ اسے یہاں سے یہاں تک۔ یعنی ناک سے سینے تک۔ چیر دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں : اس آدمی نے کہا : یہ ہیں داؤد جنہوں نے (اتنی آسانی سے فیصلہ) کر بھی دیا۔
داؤد (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ انھیں تنبیہ کی گئی ہے، اور اپنی خطا کو بھی پہچان گئے۔ چنانچہ آپ چالیس دن اور چالیس راتیں سجدے میں پڑے رہے، اور وہ لغزش آپ کے دست مبارک پر یوں تحریر تھی کہ آپ اسے دیکھتے رہتے، تاکہ غافل نہ ہوجائیں۔ (آہ وزاری کا یہ سلسلہ چلتا رہا) یہاں تک کہ آپ کے ارد گرد اتنا بلند سبزہ اگ آیا جس نے آپ کے سر کو بھی ڈھانپ لیا۔ چالیس دن کے بعد آپ پکار اٹھے : پیشانی زخم زدہ ہوگئی، آنکھیں خشک ہو کر رہ گئیں، لیکن داؤد کے قضیے کی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس پر ندا سنائی دی : کیا بھوکا ہے کہ تجھے کھانا کھلایا جائے، کیا بےلباس ہے کہ تجھے لباس پہنایا جائے ، کیا مظلوم ہے کہ تیری مدد کی جائے۔ راوی کہتے ہیں : جب آپ نے دیکھا کہ (اس ندا میں) آپ کی خطا کا ذکر بھی نہیں کیا گیا تو آپ ایسی شدت سے روئے کہ آس پاس اگا ہوا سبزہ بھی خشک ہوگیا۔ (جب داؤد (علیہ السلام) کی یہ حالت ہوگئی) تو اس وقت آپ کی لغزش معاف فرما دی گئی۔ بس جب قیامت کا دن آئے گا تو ان کے ربِ ذوالجلال ان سے فرمائیں گے : میرے سامنے کھڑے ہوجائیے۔ تو آپ عرض کریں گے : اے میرے پروردگار میرا گناہ (اس سے مانع ہے) میرا گناہ۔ اللہ جلّ شانہ فرمائیں گے : میرے پیچھے کھڑے ہوجائیے۔ تو آپ (پھر) عرض کریں گے : اے میرے پالنہار میرا گناہ (مجھے حیا دلاتا ہے) میرا گناہ۔ اس پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرمائیں گے : میرے قدموں میں آجائیے۔ تو آپ (علیہ السلام) قدموں میں آجائیں گے۔