(۳۵۳۹) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ بِہِ مَرَضٌ، فَکَانَ تُہَادَی بَیْنَ رَجُلَیْنِ إلَی الصَّلاَۃِ، فَیُقَالُ لَہُ: یَا أَبَا زَیْدٍ، إنَّک إِنْ شَائَ اللَّہُ فِی عُذْرٍ، فَیَقُولُ: أَجَلْ، وَلَکِنِّی أَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ یَقُولُ: حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ، فَمَنْ سَمِعَہَا فَلْیَأْتِہَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَوْ زَحْفًا۔
(٣٥٣٩) حضرت ابو حیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ربیع بن خثیم کو کوئی بیماری تھی، وہ دو آدمیوں کے سہارے مسجد میں آیا کرتے تھے۔ کسی نے ان سے کہا کہ اے ابو یزید ! آپ معذور ہیں، اگر چاہیں تو نماز کے لیے نہ آئیں۔ فرمایا کہ ہاں تم ٹھیک کہتے ہو، لیکن میں مؤذن کی آواز سنتا ہوں جب وہ کہتا ہے نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ تو جو یہ سنے اسے نماز کے لیے آنا چاہیے خواہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر ہی کیوں نہ آئے۔