hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 35407

.

ابن أبي شيبة

35407
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۴۰۸) حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، قَالَ: أَتَی مَلَکُ الْمَوْتِ سُلَیْمَانَ بْنَ دَاوُد ، وَکَانَ لَہُ صَدِیقًا ، فَقَالَ لَہُ سُلَیْمَانُ : مَا لَک تَأْتِی أَہْلَ الْبَیْتِ فَتَقْبِضُہُمْ جَمِیعًا وَتَدَعُ أَہْلَ الْبَیْتِ إِلَی جَنْبِہِمْ لاَ تَقْبِضُ مِنْہُمْ أَحَدًا ، قَالَ : مَا أَعْلَمُ بِمَا أَقْبِضُ مِنْہَا ، إنَّمَا أَکُونُ تَحْتَ الْعَرْشِ فَتُلْقَی إلَیَّ صِکَاکٌ فِیہَا أَسْمَائٌ۔
(٣٥٤٠٨) حضرت خیثمہ کہتے ہیں : حضرت سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) کے پاس موت کا فرشتہ حاضر ہوا ، اور آپ (علیہ السلام) کا اس سے دوستی کا تعلق تھا۔ تو آپ نے اس سے فرمایا : تم عجیب ہو ! ایک گھر میں آتے ہو اور تمام اہل خانہ کی ارواح قبض کرلیتے ہو، جبکہ ان کے پہلو (میں موجود گھر) کے اہل خانہ کو (زندہ سلامت) چھوڑ دیتے ہو، ان میں سے ایک کی بھی روح قبض نہیں کرتے (یہ کیا ماجرا ہے) ؟ موت کے فرشتہ نے (جواب میں) عرض کیا : مجھے کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ مجھے کس کی روح قبض کرنی ہے۔ میں تو عرش کے نیچے (دست بستہ) ہوتا ہوں، تو ایک پرچی میری جانب گرادی جاتی ہے ، اس میں (ان لوگوں کے) نام درج ہوتے ہیں (جن کی مجھے روح قبض کرنا ہوتی ہے) ۔