(۳۵۴۱۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ، قَالَ : مَاتَ ابْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ دَاوُد ، فَوَجَدَ عَلَیْہِ وَجْدًا شَدِیدًا حَتَّی عُرِفَ ذَلِکَ فِیہِ وَفِی قَضَائِہِ ، فجاء فَبَرَزَ ذَاتَ یَوْمٍ مَلَکَانِ بَیْنَ یَدَیْہِ لِلْخُصُومِ ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا : إنِّی بَذَرْت بَذْرًاحَتَّی إذَا اشْتَدَّ وَاسْتَحْصَدَ مَرَّ ہَذَا بِہِ فَأَفْسَدَہُ ، فَقَالَ لِلآخَرِ : مَا تَقُولُ ، فَقَالَ : صَدَقَ ، أَخَذْت الطَّرِیقَ فَأَتَیْت عَلَی ذَرْعٍ فَنَظَرْت یَمِینًا وَشِمَالا ، فَإِذَا الطَّرِیقُ عَلَیْہِ فَأَخَذْت عَلَیْہِ ، فَقَالَ سُلَیْمَانُ لِلآخَرِ : لِمَ بَذَرْت عَلَی الطَّرِیقِ أَمَا عَلِمْت أَنَّ مَأْخَذَ النَّاسِ عَلَی الطَّرِیقِ ؟ فَقَالَ : یَا سُلَیْمَانَ ، فَلِمَ تَحْزَنُ عَلَی ابْنِکَ وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّک مَیِّتٌ ، وَأَنَّ سَبِیلَ النَّاسِ إِلَی الآخِرَۃِ۔
(٣٥٤١٣) حضرت ابودرداء (رض) فرماتے ہیں : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ایک بیٹے فوت ہوگئے تو آپ (علیہ السلام) نے اس پر شدید رنج و غم محسوس کیا۔ حتی کہ ان کی شخصیت اور فیصلوں میں بھی اس کا اثر محسوس کیا گیا۔ چنانچہ ایک دن جب آپ (مجلسِ قضا میں) تشریف لائے تو دو فرشتے (انسانوں کی شکل میں) آپ کی خدمت میں ایک جھگڑے کے تصفیہ کے لیے حاضر ہوئے۔ ان میں سے ایک بولا : میں نے بیج بویا، جب وہ پک کر کاٹنے کے قابل ہوگیا تو یہ (دوسرا شخص) وہاں سے گزرا اور اس کو برباد کر گیا۔ آپ (علیہ السلام) نے دوسرے سے دریافت فرمایا : تم کیا کہتے ہو ؟ تو اس نے جواب دیا : یہ سچ کہتا ہے۔ میں راستے پر جا رہا تھا کہ اس کے کھیت پر جا پہنچا، میں نے دائیں بائیں دیکھا مگر راستہ وہی تھا (جس پر اس نے کھیت اگا رکھا تھا) ، چنانچہ میں اس (کے کھیت) میں ہی چل پڑا (تو وہ خراب ہوگیا) ۔ (یہ سنا) تو سلیمان (علیہ السلام) نے پہلے شخص سے دریافت فرمایا : تم نے راستے میں کیوں بیج بو دیا تھا ؟ کیا تمہیں نہیں معلوم تھا کہ لوگوں نے تو راستے پر سے ہی گزرنا ہوتا ہے ؟ اس پر اس شخص نے جواب دیا : اے سلیمان (علیہ السلام) ! (اگر ایسا ہے) تو تم کیوں اپنے بیٹے پر (اتنا زیادہ) غم گین ہوتے ہو، حالانکہ تم جانتے ہو کہ ایک دن تم بھی مرنے والے ہو، اور یہ (بھی جانتے ہو) کہ تمام لوگ آخرت کی جانب ہی رواں دواں ہیں۔