(۳۵۴۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ نَبِیًّا مِنْ أَنْبِیَائِ اللہِ ، قَالَ : مَنْ أَہْلُکَ الَّذِینَ ہُمْ أَہْلُکُ الَّذِینَ فِی ظِلِّ عَرْشِکَ ، قَالَ : ہُمَ الْبَرِیئَۃُ أَیْدِیہِمْ ، الطَّاہِرَۃُ قُلُوبُہُمْ ، الَّذِینَ یَتَحَابُّونَ بِجَلاَلِی ، الَّذِینَ إذَا ذُکِرُوا ذُکِرْت بِہِمْ وَإِذَا ذُکِرْت ذُکِرُوا بِی ، اللذین یَسْبُغُونَ الْوُضُوئَ عَلَی الْمَکَارِہِ ، وَالَّذِینَ یَکْلِفُونَ بِحُبِّی کَمَا یَکْلَفُ الصَّبِیُّ بِالنَّاسِ ، وَالَّذِینَ یَأْوُونَ إِلَی ذِکْرِی کَمَا تَأْوِی الطَّیْرُ إِلَی وَکْرِہَا ، وَالَّذِینَ یَغْضَبُونَ لِمَحَارِمِی إذَا اسْتُحِلَّتْ کَمَا یَغْضَبُ النَّمِرُ إذَا حَرِمَ ، أَوَ قَالَ : حَرِبَ۔
(٣٥٤١٦) حضرت زید بن اسلم سے مروی ہے : اللہ تعالیٰ کے نبیوں میں سے کسی نبی نے فرمایا : تیرے کون سے برگزیدہ بندے ایسے برگزیدہ ہیں جو (روز قیامت) تیرے عرش کے سائے تلے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے ہاتھ (ظلم و ستم) سے بری ہیں، جن کے دل پاکیزہ ہیں، جو میری بزرگی کی وجہ سے آپس میں محبت کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہوں گے کہ جب ان کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان (کے میرے ساتھ انتہائی تعلق) کی وجہ سے میرا ذکر بھی کیا جاتا ہے، اور جب میرا ذکر کیا جاتا ہے تو میری (ان پر انتہائی شفقت و مہربانی کی) وجہ سے اُ ن کا ذکر بھی کیا جاتا ہے، یہ وہ لوگ ہوں گے جو باوجود (سردی کی) تکلیف کے اپنا وضو مکمل طور پر کرتے ہیں، اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو میری محبت کے یوں دیوانے ہیں جیسا بچہ (اپنے شناسا) لوگوں کا دیوانہ ہوتا ہے، اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو (تپش معاصی سے ڈر کر) میرے ذکر (کی ٹھنڈی چھاؤں) میں یوں پناہ لیتے ہیں جیسے پرندہ اپنے گھونسلے میں پناہ لیتا ہے، اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو میری حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھے جانے (یا ان کا ارتکاب کئے جانے) پر یوں غضبناک ہوتے ہیں جیسے چیتا (شکار سے) محروم کئے جانے پر (غضبناک ہوتا ہے) ، یا پھر فرمایا : (جیسے چیتا) لڑائی کے وقت (غضبناک ہوتا ہے) ۔