(۳۵۴۳۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ أَبِی الأَشْہَبِ ، قَالَ : حدَّثَنِی خَالِدُ بْنُ ثَابِتٍ الرَّبَعِیُّ ، قَالَ جَعْفَرٌ : وَکَانَ یَقْرَأُ الْکُتُبَ ، إِنَّ لُقْمَانَ کَانَ عَبْدًا حَبَشِیًّا نَجَّارًا ، وَإِنَّ سَیِّدَہُ ، قَالَ لَہُ : اذْبَحْ لِی شَاۃً ، قَالَ : فَذَبَحَ لَہُ شَاۃً ، فَقَالَ: ائْتِنِی بِأَطْیَبِہَا مُضْغَتَیْنِ ، فَأَتَاہُ بِاللِّسَانِ وَالْقَلْبِ ، قَالَ : فَقَالَ : مَا کَانَ فِیہَا شَیْئٌ أَطْیَبَ مِنْ ہَذَیْنِ ؟ قَالَ : لاَ، فَسَکَتَ عَنْہُ مَا سَکَتَ ، ثُمَّ قَالَ : اذْبَحْ لِی شَاۃً ، فَذَبَحَ لَہُ شَاۃً ، قَالَ : أَلْقِ أَخْبَثَہَا مُضْغَتَیْنِ ، فَأَلْقَی اللِّسَانَ وَالْقَلْبَ ، فَقَالَ لَہُ : قُلْتُ لَک ائْتِنِی بِأَطْیَبِہَا ، فَأَتَیْتنِی بِاللِّسَانِ وَالْقَلْبِ ، ثُمَّ قُلْتُ لَک : أَلْقِ أَخْبَثَہَا مُضْغَتَیْنِ ، فَأَلْقَیْت اللِّسَانَ وَالْقَلْبَ ، فقَالَ : لَیْسَ شَیْئٌ أَطْیَبَ مِنْہُمَا إذَا طَابَا ، وَلاَ أَخْبَثَ مِنْہُمَا إذَا خَبُثَا۔
(٣٥٤٣٥) حضرت جعفر جو کہ کتابوں کا مطالعہ کرنے والے تھے فرماتے ہیں : بیشک لقمان (رض) حبشہ کے رہنے والے بڑھئی غلام تھے : (ایک مرتبہ) ان کے آقا نے ان سے کہا : میرے لیے بکری ذبح کرو۔ جعفر کہتے ہیں : انھوں نے ان کے لیے بکری ذبح کردی۔ ان کے آقا نے کہا : اس کے دو بہترین اعضاء میرے لیے لے آؤ۔ تو وہ اس کے پاس دل اور زبان لے آئے۔ جعفر کہتے ہیں : ان کے آقا نے کہا : کیا اس کے اندر اس سے بہتر کوئی چیز نہ تھی ؟ حضرت لقمان (رض) نے فرمایا : نہیں۔ تو ان کا آقا خاموش ہوگیا اور کچھ عرصہ ایسے ہی گزر گیا۔
پھر (ایک دن) ان کے آقا نے کہا : میرے لیے بکری ذبح کرو۔ تو انھوں نے بکری ذبح کردی۔ ان کے آقا نے کہا : اس کے دو بد ترین اعضاء نکال دو ۔ تو انھوں نے اس کا دل اور زبان نکال دی۔ ان کے آقا نے کہا : میں نے تم سے کہا دو بہترین اعضاء لے آؤ تو تم دل اور زبان لے آئے پھر میں نے تم سے کہا کہ اس کے دو بدترین اعضاء لے آؤ تو تم پھر دل اور زبان لے آئے (اس کی کیا وجہ ہے ؟ ) ۔ حضرت لقمان (رض) نے فرمایا : جب دل اور زبان پاکیزہ ہوں تو ان سے بہتر کوئی چیز (جسم میں) نہیں ہے۔ اور جب دل اور زبان برے ہوں تو ان سے بدتر کوئی چیز (جسم) میں نہیں ہے۔