(۳۵۴۵۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، قَالَ : دَخَلَ مُعَاوِیَۃُ عَلَی خَالِہِ أَبِی ہَاشِمِ بْنِ عُتْبَۃَ یَعُودُہُ فَبَکَی ، فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ : مَا یُبْکِیک یَا خَالِی ، أَوَجَعٌ یُشْئِزُکَ أَمْ حِرْصٌ عَلَی الدُّنْیَا ، فَقَالَ : فکُلٌّ لاَ ، وَلَکِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَہِدَ إلَیْنَا ، قَالَ : یَا أَبَا ہَاشِمٍ ، إِنَّہَا لَعَلَّہَا تُدْرِکُکُمْ أَمْوَالٌ یُؤْتَاہَا أَقْوَامٌ ، فَإِنَّمَا یَکْفِیک مِنْ جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْکَبٌ فِی سَبِیلِ اللہِ فَأُرَانِی قَدْ جَمَعْت۔ (ترمذی ۲۳۲۷۔ احمد ۴۴۳)
(٣٥٤٥١) حضرت شقیق کہتے ہیں : حضرت معاویہ (رض) اپنے ماموں ابو ہاشم بن عتبہ کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو ان کے ماموں رونے لگے۔ حضرت معاویہ (رض) نے دریافت فرمایا : اے میرے ماموں آپ کیوں رو رہے ہیں، کیا (مرض کی) تکلیف نے آپ کو رنجیدہ کر رکھا ہے یا دنیا سے (طبعی) لگاؤ نے۔ انھوں نے جواب دیا : ایسی کوئی بات نہیں ہے ، بلکہ (مجھے تو اس بات نے رنجیدہ کر رکھا ہے کہ) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا : اے ابو ہاشم ! تمہیں بھی یقیناً وہ مال و دولت میسر آئے گا جو دیگر (فاتح) اقوام کو میسر آتا ہے ، مگر تمہارے لیے تو صرف ایک خادم اور راہ خدا میں (جہاد کے لئے) ایک سواری ہی کافی ہوگی۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میں (اس سے کہیں زیادہ) مال جمع کرچکا ہوں۔