(۳۵۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، وَوَکِیعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَۃَ، عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَمْسَحُ مَنَاکِبَنَا فِی الصَّلاَۃِ وَیَقُولُ: اسْتَوُوا، وَلاَ تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُکُمْ، لِیَلِیَنِّی مِنْکُمْ أُولُوا الأَحْلاَمِ وَالنُّہَی، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: فَأَنْتُمُ الْیَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلاَفًا۔
(مسلم ۱۲۲۔ ابوداؤد ۶۷۴)
(٣٥٤٧) حضرت ابو مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں ہمارے کندھوں کو ہاتھ لگا کر صفیں درست کرتے اور فرماتے کہ صفیں سیدھی رکھو، آگے پیچھے مت کھڑے ہو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں اختلاف ڈال دے گا۔ تم میں سے عقل اور دانش والے لوگ نماز میں میرے قریب کھڑے ہوں اور ان کے بعد وہ کھڑے ہوں جو سمجھ میں ان سے کم ہیں۔ حضرت ابو مسعود فرماتے ہیں کہ آج تمہارا تنازیادہ اختلاف صفیں سیدھی نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔