hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 35474

.

ابن أبي شيبة

35474
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۴۷۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَخِی نُعْمَانُ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَتْ لأَبِیہَا : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، مَا عَلَیْک لَوْ لَبِسْت أَلْیَنَ مِنْ ثَوْبِکَ ہَذَا وَأَکَلْت أَطْیَبَ مِنْ طَعَامِکَ ہَذَا ، قَدْ فَتَحَ اللَّہُ عَلَیْک الأَرْضَ ، وَأَوْسَعَ عَلَیْک الرِّزْقَ ؟ قَالَ : سَأُخَاصِمُک إِلَی نَفْسِکَ ، أَمَا تَعْلَمِینَ مَا کَانَ یَلْقَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ شِدَّۃِ الْعَیْشِ ، وَجَعَلَ یُذَکِّرُہَا شَیْئًا مِمَّا کَانَ یَلْقَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَبْکَاہَا ، قَالَ : قَدْ قُلْتُ لَک إِنَّہُ کَانَ لِی صَاحِبَانِ سَلَکَا طَرِیقًا فَإِنِّی إنْ سَلَکْت غَیْرَ طَرِیقِہِمَا سُلِکَ بِی غَیْرَ طَرِیقِہِمَا ، فَإِنِّی وَاللہِ لأُشَارِکَنَّہُمَ فِی مِثْلِ عَیْشِہِمَا الشَّدِیدِ ، لَعَلِّی أُدْرِکُ مَعَہُمَا عَیْشَہُمَا الرَّخِیَّ ، یَعْنِی بِصَاحِبَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَکْرٍ رضی اللَّہُ عَنْہُ۔ (عبد بن حمید ۲۵۔ ابن المبارک ۵۷۴)
(٣٥٤٧٥) حضرت مصعب بن سعد، حضرت حفصہ بنت عمر کے بارے میں روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت حفصہ (رض) نے اپنے والد سے کہا اے امیر المومنین ! اگر آپ اپنے ان کپڑوں سے نرم کپڑے پہنیں اور اپنے اس کھانے سے اچھا کھانا کھائیں تو آپ کے لیے کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر زمین کی فتوحات کو کھول دیا ہے اور آپ پر رزق کو وسعت دے دی ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں تمہارے ساتھ جھگڑے میں تمہیں ہی فیصل بناتا ہوں۔ کیا تم اس بات کو نہیں جانتی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زندگی کی کتنی سختی کا سامنا کرنا پڑا تھا ؟ حضرت عمر (رض) نے حضرت حفصہ (رض) کو جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیش آنے والے واقعات یاد دلانے شروع کیے۔ یہاں تک کہ آپ نے حضرت حفصہ کو رلا دیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تحقیق میں نے تمہیں کہا تھا کہ میرے جو دو ساتھی تھے وہ ایک راستہ چل گئے ہیں پس اگر میں ان کے راستے کے علاوہ راستہ پر چلوں گا تو میری وجہ سے ان کے راستہ کے علاوہ راستہ چلا جائے گا۔ پس میں ۔۔۔ خدا کی قسم ۔۔۔ البتہ ضرور بالضرور ان کی سخت زندگی کی طرح ان کے ساتھ شریک ہوں گا۔ شاید کہ میں ان کے ساتھ ان کی آسودہ زندگی میں بھی پایا جاؤں۔ حضرت عمر (رض) کی اپنے دو ساتھیوں سے مراد، جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر (رض) تھے۔